بھارتی پارلیمان حملے کے ماسٹر مائنڈ افضل گرو کو پھانسی

حملے میں نو افراد مارے گئے تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بھارت کے وزیر داخلہ سشیل کمار شندے اور داخلہ سیکریٹری کے مطابق پارلیمنٹ پر حملے کی سازش کی پاداش میں محمد افضل گرو کو ہفتے کو علی الصباح پھانسی دے دی گئی ہے۔

افضل گرو کی پھانسی کے پیش نظر بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں کرفیو لگا دیا گیا ہے کیونکہ کئی حلقے اس پھانسی کے خلاف ہیں۔ کشمیر کے اہم شہروں میں سکیورٹی کے انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔

اس سے قبل بھارت کے صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی نے افضل گرو کی رحم کی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے پھانسی کی سزا پر مہر لگائی تھی۔ افضل گرو کو 13 دسمبر 2001 میں ہو نے والے اس حملے کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا گیا تھا۔

افضل گرو کو 20 اکتوبر 2006 میں صبح چھ بجے پھانسی ہونی تھی لیکن ان کی اہلیہ تبسم کی رحم کی اپیل پر اس وقت کے صدر نے اسے ملتوی کردیا تھا۔ اس کے بعد سے یہ معاملہ التوا میں رہا اور اس معاملے پر کافی دنوں تک سیاست گرم رہی۔

موت اور زندگی کی کشمکش کے درمیان محمد افضل گرو دِلی کی تہاڑ جیل کے مخصوص وارڈ میں قید رہے۔ ان کی پھانسی کے لیے تمام بندوبست ہوچکے تھے۔ پھندے کے لیے رسی ریاست بہار سے آ چکی تھی اور جّلاد پڑوسی شہر میرٹھ سے، لیکن اس پورے عمل میں افضل کی اہلیہ تبسم کی رحم کی اپیل حائل ہوگئی جس پر اس وقت کے صدر جمہوریہ صدر اے پی جے عبد الکلام نے کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

اس کی اطلاع دیتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ سشیل کمار شدے نے بتایا، ’بھارت کی پارلیمنٹ پر ہونے والے حملے میں پانچ شدت پسند شامل تھے۔ اس حملے میں نو افراد ہلاک ہوئے تھے، ان میں زیادہ تر پارلیمنٹ کی حفاظت پر تعینات پولیس اہلکار شامل تھے۔ جبکہ پانچوں شدت پسند جوابی کارروائی میں ہلاک ہو گئے تھے۔‘ افضل گرو پر شدت پسندوں کو مدد فراہم کرنے کا الزام درست پایا گیا تھا۔

واضح رہے کہ بھارت کی سپریم کورٹ نے سنہ 2004 میں انہیں اس حملے کا مرتکب پایا تھا اور انہیں پھانسی کی سزا سنائی تھی۔ گزشتہ سال 16 نومبر کو صدر نے افضل گرو کی رحم درخواست کو وزارت داخلہ کو واپس لوٹا دیا تھا۔ اس کے بعد 23 جنوری، 2013 کو صدر پرنب مکھرجی نے وزارت داخلہ کو افضل گرو کی رحم کی درخواست کو خارج کر دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں