نیجر سے یرغمال شہریوں کی رہائی کا تاوان ادا نہیں کیا: فرانس

"تاوان دینے کی پالیسی کی حوصلہ شکنی کی جائے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فرانس کا کہنا ہے کہ سن 2010ء کے دوران نیجر میں یرغمال بنائے اپنے چار شہریوں کی رہائی کے لئے مزعومہ 17 ملین ڈالر تاوان پیش نہیں کیا گیا۔ "تاوان کی ادائیگی پیرس حکومت کی اغوا کاروں سے عدم مذاکرات کی پالیسی کی خلاف ورزی ہے۔"

یاد رہے 2002ء سے 2005ء تک مالی میں امریکی سفیرة وکی ہاڈیلسٹون نے 'ای ٹیلی' نامی نیوزچینل کو بتایا کہ تاوان کی رقم اسلامی مغرب میں سرگرم القاعدہ تک کئی ہاتھوں سے گزر کر پہنچی۔ سفیرہ کے بہ قول یقیناً فرانس، سلفیوں تک براہ راست نہیں گیا کہ یہ لو سترہ ملین ڈالر اور ہمارے بندے رہا کر دو۔"

انہوں نے کہا کہ تاوان بالواسطہ طور پر ادا کیا گیا جو مالی حکومت کو پہنچایا گیا، جہاں سے اسے اغوا کار سلفیوں کو ہینڈ آور کیا گیا۔

امریکا نے جمعہ کے روز ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ مغرب اسلامی میں سرگرم القاعدہ نے ساحلی علاقوں میں یرغمال بنائے گئے غیر ملکیوں کی رہائی کے بدلے بھاری رقوم بطور تاوان جمع کی ہیں۔ واشنگٹن نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ اس سلسلے میں اغوا کاروں سے تعاون نہ کریں۔

ادھر امریکی وزیر خارجہ وکٹوریا نولینڈ نے بھی ہاڈیلسٹون کے بیان کردہ خطرات کی توثیق کی ہے کہ مغرب اسلامی میں القاعدہ اور دوسری دہشت گردی تنظیموں کی فنڈنگ کا بڑا ذریعہ غیر ملکی شہریوں کا اغوا برائے تاوان ہی ہے۔ "ہم بین الاقوامی برادری میں اپنے پارٹنرز اور حلیفوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اغوا کاروں سے عدم تعاون کی پالیسی اپنائیں۔" انہوں نے کہا کہ اگر ہم ایسا کرنے میں کام رہتے ہیں تو اس کا فائدہ دہشت گردوں کو اپنے خزانے بھرنے کی صورت میں ہوگا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں