.

بلعید، بوعزیزی نہیں تھے اور میں بن علی نہیں ہوں: الغنوشی

"شکری کا قتل انقلاب کا ٹیکس ہے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس کی حکمران جماعت تحریک نہضت کے سربراہ راشد الغنوشی نے کہا کہ بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے سرکردہ سیاستدان شکری بلعید کا بدھ کے روز قتل ایک گنہگارانہ اقدام ہے لیکن یہ قدیم اور جدید انقلابات کی تاریخ کا کوئی انوکھا واقعہ نہیں۔ راشد الغنوشی میڈیا انٹرویوز میں یکے بعد دیگرے اس الزام کی تردید کرتے چلے آ رہے ہیں کہ ان کی جماعت شکری بلعید کے قتل کی ذمہ داری نہیں۔

الجزائر سے شائع ہونے والے عرب روزنامے 'الخبر' کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے راشد الغنوشی نے کہا کہ کوئی حکمران جماعت کیسے اس اسٹیج کے نیچے دھماکا کر سکتی ہے، جس پر وہ خود بیٹھی ہو۔ ان کا اشارہ اپوزیشن رہنما شکری بلعید کے قتل کی جانب تھا۔

راشد الغنوشی نے کہا کہ انقلاب مخالف گروپ شکری بلعید کے قتل کے ذمہ دار ہیں۔ ان حلقوں کا خیال ہے کہ شاید انقلاب ایسے 'منظر نامے' پیدا کر کے لائے جاتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ شکری بلعید، نیا بوعزیزی ہے اور الغنوشی نیا بن علی ہے۔ آؤ انقلاب لے آئیں۔ یہ حقائق سے ماورا باتیں ہیں۔ کیا کوئی عقلمند شخص یہ سوچ سکتا ہے کہ موجودہ دھماکا خیز صورتحال میرے یا تحریک نہضت کے حق میں کسی بھی طرح مفید ہو سکتی ہے؟

تحریک نہضت کے رہنما نے کہا کہ الجزائر میں 1992ء کے بعد قتل مقاتلے کی جو پالیسی چلائی گئی، میری جماعت اس کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ الجزائر اور تیونس میں زمین آسمان کا فرق ہے۔

سیاسی حوالے سے ایک سوال کے جواب میں راشد الغنوشی نے کہا کہ وہ وزیر اعظم حمادی الجبالی کے منصوبے پر راضی نہیں۔ وزیر اعظم جبالی نے منصوبے کے حق میں جو دلائل دیئے ہیں، میں ان سے قائل نہیں ہو سکا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ حالات ایسے بھی نہیں کہ جنہیں تحریک کی صفوں میں انتشار سے تعبیر کیا جائے۔

موجودہ بحران میں فوج کے کردار کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے راشد الغنوشی نے کہا کہ ہماری سپاہ، پیشہ وارانہ فوج ہے، یہ سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کرتی۔ اس کا کام سرحدوں کی حفاظت ہے۔ ہمیں اگر ان کی ضرورت پڑی تو یہ قومی ذمہ داریاں ادا کرے گی۔ ملکی مسائل حل کرنے کے لئے فوج، سیاستدانوں کی جگہ نہیں لے گی۔

اس سے قبل راشد الغنوشی نے"سیاسی تشدد اور اس کا مقابلہ" کے موضوع پر ہونے والی کانفرنس میں شرکت کے موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آمریت سے جمہوریت کے سفر میں قتل کی صورت میں عوام کو ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے۔ تاہم کسی کے حاشیہ خیال میں یہ بات نہیں آنی چاہئے کہ قتل کی سرگرمیاں ملک کے حکمرانوں کے لئے مفید ہو سکتی ہیں؟

انہوں نے خبردار کیا کہ جو لوگ اہل تیونس کو تشدد کے ذریعے مخاطب کرنے کا سوچ رہے ہیں، وہ ٹھیک نہیں کر رہے۔ ان کا اشارہ مقتول رہنما بلعید کی اہلیہ اور دیگر لواحقین کی جانب سے تحریک نہضت پر قتل کے الزام کی جانب تھا۔