.

چُپ کی روزہ کشائی

جہاد مقدسی کی کی کہانی، خود ان کی زبانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی وزارت خارجہ کے سابق ترجمان جہاد مقدسی نے بالآخر چپ کا روزہ توڑ دیا ہے اور دمشق سے بڑی خاموشی سے نکل جانے کی کہانی بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ سفاکانہ تنازعے کے بعد ان کے لیے ملک میں رہنے کی کوئی جگہ نہیں رہ گئی تھی۔ انھوں نے ان اطلاعات کی بھی تردید کی ہے کہ وہ امریکا یا کسی یورپی ملک میں گئے ہیں۔

جہاد مقدسی نے یہ بیان ای میل کے ذریعے میڈیا اداروں کو بھیجا ہے۔ العربیہ کو موصول ہونے والی ای میل میں جہاد مقدسی نے اپنے اتا پتا کے بارے میں کچھ بتانے سے گریز کیا ہے کہ وہ اس وقت کہاں روپوش ہیں۔

انھوں نے اس بیان میں کہا کہ ''عوامی تحریک کے مقاصد اصولی طور پر قانونی اور جائز ہیں اور یہ دلوں کی جنگ جیت چکی ہے کیونکہ معاشرے کے تمام طبقات ہمیشہ کمزور اور عوام کے جائز مطالبات کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں''۔

انھوں نے کہا: ''لیکن یہ تحریک ذہنوں کی لڑائی جیتنے میں ناکام رہی ہے۔ اس کی بہت سے وجوہ ہیں اور یہ عمومی علم ہیں۔ اے ایف پی نے ان سے منسوب میں کہا ہے کہ وہ کسی جماعت سے تعلق نہیں رکھتے ہیں۔

جہاد مقدسی نے کہا کہ ''میں کسی (گروپ یا جماعت) میں شامل نہیں ہوا۔ میرے پاس کوئی خفیہ راز ہیں اور نہ میں شامی حکومت کے فیصلہ سازی کا حصہ رہا تھا۔ میں میڈیا کے ترجمان کی حیثیت سے جو کچھ جانتا ہوں، وہ ایک عام شہری کی معلومات سے زیادہ نہیں''۔

جہاد مقدسی دسمبر کے اوائل میں لاپتا ہو گئے تھے اور ان کے بارے میں تب طرح طرح کی قیاس آرائیاں کی گئی تھیں۔تاہم شامی وزارت خارجہ نے جہاد مقدسی کے لاپتا ہونے کے بعد 11دسمبر 2012ء کو ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ رخصت پر چلے گئے ہیں۔

انھوں نے حکومت کے حامی اپنے ناقدین کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ انھوں نے پیسنٹھ ہزار شامی شہداء کی جانوں کے احترام کے بغیر ہی مجھ پر غداری کا الزام عاید کر دیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ''میری خواہش تھی کہ میں شامی سر زمین ہی پر قیام کرتا لیکن انارکی میں اعتدال کے لیے کوئی جگہ نہیں رہ گئی تھی''۔ جہاد مقدسی نے اس ای میل بیان میں یہ نہیں بتایا کہ وہ اس وقت کہاں رہ رہے ہیں۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ''میں نے یورپ یا امریکا میں قدم نہیں رکھے حالانکہ میرے پاسپورٹ پر ان کے ویزے لگے ہوئے تھے۔ میں باوقار شامی بھائیوں کے ساتھ رہ رہا ہوں جو ان کے بہ قول انسانی بحران میں شامی عوام کی مدد کر رہے ہیں۔

انھوں نے شام سے چلے جانے کو ایک عارضی غیر حاضری قرار دیا اور تمام شامیوں پر زور دیا کہ وہ اپنی قوم کو بچانے کے لیے مل جل کر کام کریں۔''میں نے میدان جنگ کو چھوڑا ہے ایک عام ملک کو نہیں''۔ ان کا کہنا تھا۔

جہاد مقدسی مذہبا‏ عیسائی ہیں۔ وہ انگریزی اور فارسی روانی سے بولتے ہیں۔ انھوں نے وزارت خارجہ میں ملازمت کے دوران لندن میں تعیناتی کے وقت اپنا ڈاکٹریٹ کا مقالہ مکمل کیا تھا اور مارچ 2011ء میں صدر بشار الاسد کے خلاف عوامی بغاوت پھوٹ پڑنے کے بعد انھیں دمشق واپس بلا لیا گیا تھا اور وزارت خارجہ کا ترجمان مقرر کیا گیا تھا۔ وہ اپنی ہفتہ وار نیوز کانفرنسوں میں شامی صدر کا دفاع کرتے رہے تھے لیکن ان کے غائب ہونے کے بعد شامی وزارت خارجہ نے نیوز کانفرنس کا سلسلہ موقوف کر دیا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی نظر آتی ہے کہ اس کے پاس شاید جہاد مقدسی کے پائے کا ترجمان نہیں رہا ہے۔