انقلاب کے بعد سے 22 ہزار افراد لاپتا، 30 ہزار جاں بحق: لیبی وزیر دفاع

سخت سیکیورٹی میں لیبی انقلاب کی دوسری سالگرہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

لیبیا کے وزیر دفاع محمد البرغثی نے انکشاف کیا ہے کہ ملک میں 17 فروری کے انقلاب کے بعد سے لاپتا افراد کی تعداد 22 ہزار ہو گئی ہے جبکہ اس میں مارے جانے والوں کی تعداد 30 ہزار ہے۔

العربیہ الحدث کو خصوصی انٹرویو میں البرغثی کا کہنا تھا کہ لیبی حکومت نے سرکاری گوداموں سے لوٹا جانے والا 80 فیصد اسلحہ واپس لے لیا ہے۔ انہوں نے اس تاثر کی سختی سے تردید کی کہ لیبیا سے لوٹا جانے والے گولا بارود ملک سے باہر سمگل کیا جا چکا ہے۔

ادھر لیبیا میں سابق رہنما معمر قذافی کے خلاف بغاوت کے دو سال پورے ہونے پر ملک بھر میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔ سرحدیں بند کر دی گئی ہیں جبکہ بین الاقوامی پروازیں بھی جزوی طور پر منسوخ کر دی گئی ہیں۔ یہ اقدامات اس دِن کی مناسبت سے سکیورٹی خدشات کی وجہ سے کیے گئے ہیں

لیبیا میں دو برس قبل سابق رہنما معمر قذافی کے طویل دَور حکومت کے خلاف بغاوت کا سلسلہ شروع ہوا، جس کے نتیجے میں بلآخر چار دہائیوں پر محیط ان کا اقتدار ختم ہوا۔ بغاوت اکتوبر 2011ء میں قذافی کی ہلاکت پر ختم ہوئی تھی۔

اس بغاوت کے دو سال مکمل ہونے پر تشدد کے نئے سلسلے کے خدشے کے پیشِ نظر ملک بھر میں سکیورٹی ہائی الرٹ ہے۔ لیبیا کے نئے حکمرانوں کو اس وقت ناقدین کی جانب سے ’نئے انقلاب‘ کے مطالبوں کا سامنا ہے، جو انہیں اصلاحات کے نفاذ میں ناکامی کے ذمہ دار قرار دے رہے۔

جمعہ کو لیبیا کے بڑے شہروں طرابلس اور بن غازی میں ہزاروں افراد 15 فروری 2011ء کا دِن منانے کے لیے جمع ہوئے تھے۔ اسی روز احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے تھے جو دو روز بعد بغاوت میں بدل گئے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اتوار کو بغاوت کے دو برس مکمل ہونے پر سرکاری سطح پر کسی پروگرام کے انعقاد کا اعلان نہیں کیا گیا، لیکن حکام نے جشن کی متوقع تقریبات کے حوالے سے کسی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے سکیورٹی سخت کر رکھی ہے۔

تیونس اور مصر کے ساتھ لیبیا کی سرحدیں جمعرات سے ہی چار روز کے لیے بند ہیں۔ طرابلس اور بن غازی کے علاوہ تمام ہوائی اڈوں پر بین الاقوامی پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔

بن غازی اور دارالحکومت میں متعدد مقامات پر چیک پوائنٹس قائم کیے گئے ہیں۔ لیبیا کے وزیر اعظم علی زیدان کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات اس دِن کی مناسبت سے سکیورٹی خدشات کی وجہ سے کیے گئے ہیں۔

اپوزیشن گروپ مطالبہ کر رہے ہیں کہ قذافی دَور کے حکومتی اہلکاروں کو سرکاری عہدوں سے دُور رکھا جائے۔ طرابلس میں ایک پمفلٹ بھی تقسیم کیا گیا ہے، جس میں موجودہ حکومت کے خلاف نافرمانی کی تحریک چلانے پر زور دیا گیا ہے۔

یہ واضح نہیں کہ یہ پمفلٹ تقسیم کرنے میں کس کا ہاتھ ہے، تاہم لیبیا کے حکام اور اسلامی گروپوں سمیت متعدد تنظیموں نے الزام عائد کیا ہے کہ سابق حکومت کے عناصر عدم استحکام اور بد انتظامی پیدا کرنے کے لیے مظاہروں کا سلسلہ شروع کرنا چاہتے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ ’پرامن مظاہروں‘ کے لیے خصوصی اجازت نامے درکار ہوں گے۔ بغاوت کی دو سالہ تقریبات میں رخنہ ڈالنے والوں کے خلاف طاقت کے استعمال کا انتباہ بھی جاری کیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں