.

ترکی: اجتماعی ٹرائل کے خلاف احتجاج، پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں

حکومت مخالف سازش میں ملوث افراد کے وکلاء کے دلائل مکمل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے شہر استنبول کے نواح میں واقع قصبے میں ایک جیل میں حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش میں ملوث پونے تین سو مشتبہ افراد کے اجتماعی ٹرائل کے موقع پر سیکڑوں افراد نے احتجاج کیا ہے اور ان کی پولیس کے ساتھ جھڑپیں ہوئی ہیں۔

ان مشتبہ ملزمان کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے استنبول کے نواح میں واقع قصبے سلویری کی جیل ہی خصوصی عدالت قائم کی گئی ہے۔سوموار کو سماعت کے موقع پر ملزمان کے لواحقین اور فوج کے حامیوں کی بڑی تعداد جیل کے باہر موجود تھی۔انھوں نے جیل سے باہر رکھی رکاوٹوں کو ہٹانے کی کوشش کی تو ان کی پولیس کے ساتھ جھڑپیں شروع ہو گئیں۔ پولیس نے انھیں منتشر کرنے کے لیے پانی کا چھڑکاؤ کیا۔

دو سو پچھہتر مدعا علیہان کے خلاف قوم پرست دہشت گردوں کے نیٹ ورک ایرجنکن سے تعلق اور حکمران انصاف اور ترقی پارٹی (اے کے پی) کا تختہ الٹنے کی سازش کے الزامات میں مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔یہ مشتبہ افراد گذشتہ چار سال سے جیل میں قید ہیں۔

ان گرفتار افراد میں متعدد سابق اعلیٰ فوجی عہدے دار ،وکلاء ،ماہرین تعلیم اور صحافی حضرات شامل ہیں۔ ان کے خلاف آیندہ چند ہفتوں میں فیصلہ متوقع ہے کیونکہ وکلائے صفائی نے آج اپنے دلائل مکمل کر لیے ہیں۔

حکومت کے حامی گروپوں نے ایک منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش میں شریک افراد کے خلاف مقدمے کو جمہوریت کی مضبوطی کی جانب ایک قدم قرار دیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اس سے جمہوری حکمرانوں کو چلتا کرنے والے فوجی جرنیلوں کی حوصلہ شکنی ہو گی۔

یاد رہے کہ ترکی میں فوجی جرنیلوں نے پچاس سال میں چار منتخب حکومتوں کو چلتا کیا تھا لیکن اس مقدمے کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اس کے ذریعے ترک فوج سے انتقام لیا جا رہا ہے کیونکہ وہ اسلامی جڑیں رکھنے والی جماعت اے کے کے وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن کو اچھا نہیں سمجھتی ہے۔

عدالت میں مشتبہ ملزموں کے خلاف پیش کی گئی فرد جرم 2455 صفحات کو محیط ہے اور اس میں ارجنکن کے ارکان کو گذشتہ عشروں کے دوران متعدد بم حملوں میں ملوث قرار دیا گیا ہے۔ان میں 2006ء میں ترکی ایک عدالت پر حملے کا واقعہ بھی شامل ہے۔اس میں ایک جج ہلاک ہو گیا تھا۔

اس کے علاوہ استنبول میں حزب اختلاف کے ملکیتی روزنامہ جمہوریت کے دفاتر پر حملہ بھی فرد جرم کا حصہ ہے۔ان دونوں حملوں کا پہلے اسلام پسندوں پر الزام عاید کیا گیا تھا لیکن ریاستی پراسیکیوٹر کا کہنا ہے کہ آرمی کمان نے ان حملوں کی شہ دی تھی اور اس کا حتمی مقصد اے کے پی کی حکومت کا تختہ الٹنا تھا۔

اسی نوعیت کے ایک اور مقدمے میں استنبول کی اسی عدالت نے ستمبر 2012ء میں تین سابق جرنیلوں اور متعدد ریٹائرڈ فوجی افسروں سمیت تین سو حکومت مخالفین کو 2003ء میں حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش میں ملوث کے الزام میں بیس سال تک قید کی سزائیں سنائی تھیں۔