.

منصوبہ وزیر اعظم حماد جبالی نے پیش کیا تھا

تیونس میں ٹیکنوکریٹ کابینہ کی تشکیل کا منصوبہ مسترد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس کے وزیر اعظم حماد جبالی نے اعتراف کیا ہے کہ ملک کو درپیش سیاسی بحران حل کے لئے ٹیکنوکریٹس پر مشتمل نئی کابینہ تشکیل دینے کا منصوبہ ناکام ہو گیا۔

سیاسی رہنماؤں سے ملاقات کے بعد اظہار خیال کرتے ہوئے حماد جبالی نے کہا کہ میری جانب سے غیر سیاسی ٹیکنوکرٹیس پر مشتمل نئی کابینہ تشکیل دینے کی تجویز اتفاق رائے حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ ان کے بہ قول ملک کو موجودہ سیاسی بحران سے نکالنے کے لئے ایک نئی حکومت بنانے کا اب بھی امکان موجود ہے۔

سرکردہ سیاسی جماعتوں کے نمائندوں سے ملاقات کے بعد حماد جبالی نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا ٹیکنوکریٹس کابینہ کی تجویز پر اتفاق رائے نہیں ہو سکا، اب وہ ایک اور حل کی جانب پیش قدمی کر رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے نئے حل کے بارے میں کوئی مزید تفصیل دینے سے گریز کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ منگل کو صدر منصف المرزوقی سے ملاقات میں اگلے اقدام سے متعلق تبادلہ خیال کریں گے۔

تیونس میں چھے فروری کو بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے سیکولر رہنما شکری بلعید کی نامعلوم مسلح افراد کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد حکومت مخالف بلوے شروع ہو گئے تھے جس سے ملک میں شدید سیاسی بحران پیدا ہو گیا۔

حکمران جماعت تحریک النہضہ سے تعلق رکھنے والے حماد جبالی نے ملک میں نئے انتخابات کی خاطر ٹیکنوکریٹس پر مشتمل عبوری کابینہ کی تجویز پیش کی تھی تاہم خود ان کی اپنی جماعت نے اس تجویز کو مسترد کر دیا تھا تاہم النہضہ کے سیاسی مخالفین نے جبالی کے منصوبے پر خوب بغلیں بجائیں تھیں۔