.

یورپی یونین کی شام پر عاید پابندیوں میں 3 ماہ کے لیے توسیع

شامیوں کی مدد کے لیے اسلحے کی پابندی میں ترمیم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی یونین نے شام پر عاید کردہ پابندیوں میں مزید تین ماہ کے لیے توسیع کر دی ہے لیکن شامی شہریوں کے تحفظ کے لیے غیر مہلک آلات مہیا کرنے کی غرض سے اسلحہ کی قدغن میں ترمیم کر دی ہے۔

یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے سوموار کو اپنے اجلاس میں ایک بیان سے اتفاق کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ شام پرعاید پابندیوں سے مئی 2013ء کے آخر تک توسیع دینے سے اتفاق کیا گیا ہے لیکن ان میں ایک ترمیم کی گئی ہے تاکہ شامی شہریوں کے تحفظ کے لیے غیر مہلک اور فنی امداد مہیا کی جا سکے۔

شام پر پابندیوں میں توسیع کا فیصلہ یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے برسلز میں منعقدہ اجلاس میں کیا گیا ہے۔ برطانیہ نے یورپی یونین سے شام کو اسلحہ مہیا کرنے پر عاید پابندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا تاکہ صدر بشار الاسد کے خلاف برسر پیکار باغی جنگجوؤں کو جنگی سازو سامان مہیا کیا جاسکے لیکن برطانیہ کی اس تجویز کو مکمل طور پر نہیں مانا گیا اور شام پر عاید یورپی یونین کی اسلحے کی پابندی میں ترمیم کردی گئی ہے۔اس کے تحت اب یورپی ممالک باغی جنگجوؤں کو غیر مہلک آلات مہیا کر سکیں گے۔

واضح رہے کہ یورپی یونین نے شام پر وسیع البنیاد پابندیاں عاید کر رکھی ہیں۔ ان کے تحت تنظیم کے رکن ممالک شام کو اسلحہ مہیا کر سکتے ہیں اور نہ وہ تیل ،تجارت اور مالیات کے شعبوں میں کوئی لین دین کرسکتے ہیں۔ان پابندیاں کی مدت 28 فروری کو ختم ہونا تھی۔اب یکم مارچ سے یہ مزید تین ماہ کے لیے عاید رہیں گی۔

یورپی یونین نے شامی عہدے داروں ، حکومتی اداروں اور فرموں کو اپنی مختلف النوع پابندیوں کا ہدف بنایا تھا۔شامی صدر بشار الاسد اور ان کی اہلیہ، بہن اور والدہ کے یورپی ممالک میں اثاثے منجمد اور ان پر سفری پابندیاں عاید ہیں۔اس کے علاوہ شامی کے شاہانہ طرز زندگی کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا اور یورپی ممالک سے شام کو بیش قیمت گھریلو استعمال کی اشیاء کی برآمد پر بھی پابندی عاید ہے۔