تیونس کے وزیر اعظم حمادی جبالی مستعف

ٹیکنوکریٹس پر مشتمل کابینہ بنانے میں ناکامی کے بعد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

تیونس کے وزیر اعظم حمادی جبالی ٹیکنوکریٹس پر مشتمل نئی کابینہ بنانے میں ناکامی کے بعد اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے ہیں۔

حمادی جبالی نے منگل کو دارالحکومت تیونس میں صدر منصف مرزوقی سے ملاقات کے بعد نیوز کانفرنس میں اپنے استعفیٰ کا اعلان کیا ہے۔انھوں نے کہا:''میں نے یہ پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ اگر میں اپنے منصوبے میں ناکام رہا تو میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دوں گا اور ایسا میں نے کردیا ہے''۔ ان کا کہنا تھا کہ میرے استعفے کا مطلب انقلاب کی ناکامی نہیں ہے۔

حمادی جبالی نے حزب اختلاف کے سیاست دان شکری بلعید کے دو ہفتے قبل اندوہناک قتل کے بعد ملک میں پیدا ہونے والے سیاسی بحران سے نکلنے کے لیے ٹیکنوکریٹس پر مشتمل نئی کابینہ بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن انھیں اس منصوبے کے لیے دوسروں کے علاوہ ان کی اپنی اسلامی جماعت النہضہ کی حمایت حاصل نہیں ہو سکی۔

النہضہ کے لیڈروں نے خبردار کیا تھا کہ اگر انھیں حق حکمرانی سے محروم کیا گیا تو وہ سڑکوں پر آ کر احتجاج کریں گے۔ انھوں نے کابینہ میں اہم وزارتیں چھوڑنے سے بھی انکار کر دیا تھا۔ اپنی جماعت کے اس ردعمل پر سوموار کو حمادی جبالی نے کہا تھا کہ ایک اور طرز کی حکومت کی تشکیل کا امکان ابھی موجود ہے۔

النہضہ کے سربراہ راشد الغنوشی نے ملک میں جاری سیاسی بحران پر غور کے لیے گذشتہ روز مختلف سیاسی جماعتوں کا ایک اجلاس منعقد کیا تھا۔بعد میں انھوں نے کہا کہ ''پندرہ جماعتوں نے سیاسی اہلیت کی حامل ایک نئی حکومت کی تشکیل سے اتفاق کیا ہے جو جلد سے جلد نئے عام انتخابات کرائے''۔انھوں نے کہا کہ النہضہ میں ہم اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ حمادی جبالی ہی کابینہ کے سربراہ کی حیثیت سے اپنا کام جاری رکھیں۔

اس اجلاس میں شریک صدر منصف مرزوقی کی جماعت کانگریس برائے جمہوریہ کے ایک لیڈر عزیز قرشین نے کہا کہ سیاست دانوں اور ٹیکنوکریٹس پر مشتمل نئی حکومت کی تشکیل سے اتفاق ہوگیا ہے۔تاہم انھوں نے اس کی مزید کوئی تفصیل نہیں بتائی تھی۔

مستعفی وزیر اعظم نے گذشتہ ہفتے 'العربیہ' کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں خبردار کیا تھا کہ اگر ان کی جماعت النہضہ نے آزاد ٹیکنوکریٹس پر مشتمل نئی حکومت کی تشکیل کے لیے ان کے منصوبے کی حمایت نہ کی تو وہ وزارت عظمیٰ سے دستبردار ہو جائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ لبرل اپوزیشن لیڈر شکری بلعید کے قتل کے بعد ملک کی صورت حال خطرناک ہوگئی ہے۔اس لیے النہضہ کی قیادت قومی مفاد میں ان کے منصوبے پر غور کرے۔

انھوں نے ان اطلاعات کی تردید کی تھی جن میں بتایا گیا تھا کہ انھوں نے النہضہ کے سیکرٹری جنرل کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے یا وہ ایسا سوچ رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ''میں النہضہ کو نہیں چھوڑوں گا۔یہ ایک باوقار جماعت ہے۔ میں اس کے ساتھ آگے بڑھا ہوں۔البتہ اگر مجھے جماعت سے نکال باہر کرنے کا فیصلہ کیا جاتا ہے تو مجھے اس پر افسوس ہو گا''۔

مقتول شکری بالعید حکمراں اسلامی جماعت النہضہ کے سخت ناقد تھے اور وہ اس پر انقلاب کو چوری کرنے کا الزام لگاتے رہتے تھے۔ انھیں 6 فروری کو تیونس میں ان کی رہائش گاہ کے باہر گولی مارکر قتل کر دیا گیا تھا۔ ان کے حامیوں اور خاندان نے النہضہ پر اس قتل کا الزام عاید کیا تھا۔ان کے قتل کے خلاف تین روز تک تیونس کے مختلف شہروں میں پرتشدد مظاہرے کیے گئے تھے۔ ان میں ایک پولیس اہلکار ہلاک اور ساٹھ افراد زخمی ہو گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں