سعودی عرب: شوریٰ کونسل کے نئے ارکان کی حلف برداری

حلف اٹھانے والوں میں پہلی مرتبہ 30 خواتین شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی عرب کی شوریٰ کونسل کے نئے نامزد ارکان نے منگل کو حلف اٹھا لیا ہے۔ان میں تیس خواتین بھی شامل ہیں۔

سعودی عرب کے فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے نئے ارکان سے حلف لیا۔انھوں نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ''مجھے شوریٰ کونسل کی چھٹی مدت کے افتتاحی اجلاس میں آپ سے مل کر خوشی ہورہی ہے اور یہ پہلا موقع ہے کہ اس میں خواتین ارکان بھی شامل ہو رہی ہیں''۔

انھوں نے کہا کہ ''ہمارا مقصد کونسل کے کام کو فعال بنانا ہے اور اس کی بنیاد ایک ایسی حقیقت پسندی ہے کہ جس میں عجلت پسندی کے لیے کوئی جگہ نہیں کیونکہ اس سے شور وغوغا کے سوا کوئی نتائج حاصل نہیں ہوتے''۔۔

سعودی عرب کے سرکاری ٹیلی ویژن پر حلف برداری کی تقریب براہ راست نشر کی گئی ہے۔شاہ عبداللہ کا اپنی مختصر تقریر میں کہنا تھا کہ ''ہم جس پیش رفت پر کام کر رہے ہیں، وہ بتدریج ہونی چاہیے''۔

شوریٰ کونسل اپنی چھٹی مدت کے لیے 24 فروری سے باقاعدہ طور پر اپنے کام کا آغاز کرے گی۔ واضح رہے کہ خادم الحرمین الشریفین نے 11 جنوری کو جاری کردہ ایک تاریخی حکم نامے کے تحت تیس خواتین کو بھی شوریٰ کونسل کا رکن بنانے کی منظوری دے تھی۔

اس شاہی فرمان کے تحت ایک سو پچاس ارکان پر مشتمل شوریٰ کونسل کے دستور کی دو دفعات میں ترامیم کی گئی تھیں۔ دفعہ تین میں پہلی ترمیم کے تحت شوریٰ کونسل میں خواتین کے لیے بیس فی صد کوٹا مختص کیا گیا تھا اور اس حکم نامے کے تحت شاہ عبداللہ نے شوریٰ کونسل میں تیس خواتین کا تقرر کیا تھا جبکہ اس سے پہلے صرف مرد حضرات ہی اس نامزد مشاورتی اسمبلی کے ارکان چلے آ رہے تھے۔

دفعہ بائیس میں ترمیم کےتحت خواتین کو شوریٰ کونسل کی مکمل رکنیت کا حق حاصل ہو گا اور وہ اپنے فرائض اور ذمے داریوں کو آزادی سے ادا کرنے کی پابند ہوں گی۔ شوریٰ کونسل کی خواتین ارکان اسلامی شریعت کے اصولوں کی پاسداری کریں گی۔

خواتین ارکان کسی بھی قانونی خلاف ورزی کی مرتکب نہیں ہوں گی اور وہ مناسب حجاب (نقاب) اوڑھیں گی۔اس کے علاوہ انھیں کونسل کی عمارت میں عملے سمیت مخصوص دفاتر مہیا کیے جائیں گے اور نمازیں ادا کرنے کے لیے الگ جگہ مختص کی جائے گی۔حلف برداری کے وقت بھی ان کی نشستیں مردوں سے الگ تھیں۔

واضح رہے کہ شوریٰ کونسل (مشاورتی اسمبلی) کے ارکان کو سعودی شاہ مقرر کرتے ہیں۔یہ کونسل سعودی عرب کے مشاورتی ادارے کے طور پر کام کرتی ہے اور وقت ضرورت یا حالات کے تقاضوں کے مطابق قوانین کے مسودے تیار کرکے شاہ عبداللہ کو بھیجتی ہے۔اس کے بعد شاہ ان قوانین کی منظوری دیتے ہیں یا ان کا ملک میں نفاذ کر سکتے ہیں۔

سعودی عرب کو ایک قدامت پسند معاشرہ سمجھا جاتا ہے اور وہاں خواتین پر مختلف معاشرتی قدغنیں عاید ہیں۔ ان کو خود گاڑیاں (کاریں) چلانے کی اجازت نہیں ہے حالانکہ ملک میں ایسا کوئی قانون نافذ نہیں جس کے تحت خواتین کے کاریں چلانے پر پابندی عاید کی جاسکتی ہو۔ تاہم شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے بر سر اقتدار آنے کے بعد سے سعودی معاشرے کو جدید معاشی وسماجی رجحانات سے ہم آہنگ بنانے کے لیے متعدد اصلاحاتی اقدامات کیے ہیں اور خواتین کو قومی دھارے میں لانے کے لیے حال ہی میں متعدد اصلاحات نافذ کی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں