.

ایران نے جدید جوہری آلات کی تنصیب شروع کر دی: آئی اے ای اے

نئی سینٹری فیوجز مشینوں سے یورینیم افزودگی تیز ہو گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جوہری توانائی کے عالمی ادارے (آئی اے ای اے) کا کہنا ہے کہ ایران نے اپنے ایک جوہری پلانٹ پر جدید آلات کی تنصیب شروع کررکھی ہے۔

آئی اے ای اے نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق جمعرات کو جاری کردہ رپورٹ میں کہا ہے کہ ''ایجنسی نے 6فروری 2013ء کو مشاہدہ کیا تھا کہ ایران نے نطنز پلانٹ پر آئی آر 2 ایم سینٹری فیوجز کی تنصیب کا آغاز کر دیا ہے اور یہ پہلا موقع ہے کہ اس پلانٹ میں یہ جدید سینٹری فیوجز مشینیں نصب کی جا رہی ہیں''۔

ان سینٹری فیوجز مشینوں کی تنصیب کے بعد ایران یورینیم کو افزودہ کرنے کا عمل تیز کر سکے گا اور افزودہ یورینیم کی بھاری مقدار کو جوہری ہتھیاروں کی تیاری میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

آئی اے ای اے کی یہ رپورٹ قازقستان میں ایران کے چھے بڑی طاقتوں سے مذاکرات سے چند روز قبل سامنے آئی ہے اور اس سے چندے قبل فرانس نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ عالمی طاقتیں ایران کے جوہری تنازعے کو طے کرنے کے لیے اس کو ایک اہم پیش کش کر رہے ہیں۔

فرانس کی وزارت خارجہ کے نائب ترجمان وینسٹ فلورینی نے پیرس میں ایک بیان میں کہا کہ ''ہم (ایران کو) ایک نئی پیش کش کریں گے اور اس میں اہم نئے عناصر شامل ہوں گے''۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن پلس جرمنی اور ایران کے درمیان 26 فروری کو قازقستان کے دارالحکومت المآتے میں کئی ماہ کے تعطل کے بعد دوبارہ مذاکرات ہو رہے ہیں۔

فرانسیسی ترجمان کا کہنا تھا کہ ''ہمیں امید ہے ایران ایک تعمیری سوچ کے ساتھ ان مذاکرات میں شرکت کرے گا۔ وہ اپنے جوہری پروگرام کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں تفصیل سے تبادلہ خیال کرے گا اور ہم ان مذاکرات میں ٹھوس پیش رفت چاہتے ہیں''۔

آئی اے ای اےنے چند روز قبل ہی یہ اطلاع دی تھی کہ ایرانی انجنئیروں نے نطنز میں ایک ہزار سے زیادہ آئی آر ون سینٹری فیوجز مشینیں نصب کی ہیں جبکہ اس سے پہلے وہاں نو ہزار آئی آر ون مشینیں کام کررہی ہیں۔اس کے علاوہ قُم شہر کے نزدیک سرنگوں میں بنائی گئی ایک اور جوہری تنصیب میں آئی ار ون اٹھائیس سو مشینیں نصب کی گئی ہیں۔

ایران اس سے پہلے آئی اے ای اے کو مطلع کرچکا ہے کہ اس نے وسطی شہر نطنز کے نزدیک واقع جوہری تنصیب میں نئی آئی آر 2 ایم سینٹری فیوجز مشینیں نصب کرنے کی منصوبہ بندی کی ہے۔ایران کے جوہری توانائی ادارے کے سربراہ فریدون عباسی دیوانی نے ایک بیان میں کہا کہ ''گذشتہ ماہ سے نئی سینٹری فیوجز مشینوں کی تنصیب کا کام جاری ہے اور ہم ٹیسٹوں کو مکمل کرنے کے لیے یہ کام بتدریج کر رہے ہیں''۔

واضح رہے کہ افزودہ یورینیم کو جوہری پاور پلانٹ میں ایندھن کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے اور ایران اپنے جوہری پروگرام کا یہی مقصد بیان کرتا چلا آرہا ہے جبکہ اعلیٰ درجے کی افزودہ یورینیم کو جوہری بم کی تیاری میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔

اگر ایران نے نئی سینٹری فیوجز مشینوں کی کامیابی سے تنصیب مکمل کر لی تو ان کے ذریعے وہ یورینیم کو زیادہ تیزرفتاری سے افزودہ کرسکے گا۔تاہم فریدون عباسی کا کہنا تھا کہ نئی مشینوں سے کم درجے کی افزودہ یورینیم تیار کی جائے گی اور اس کو پانچ فی صد تک مصفیٰ کیا جائے گا۔اس سے پہلے ایران یورینیم کو بیس فی صد تک افزودہ کر رہا ہے لیکن اس سے وہ جوہری بم تیار نہیں کر سکتا۔