.

عدن میں فوج کی فائرنگ سے علاحدگی پسند ہلاک

تصادم علی صالح کے اقتدار سے بیدخلی کے ایک برس بعد ہوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمنی فوج اور جنوبی یمن میں علاحدگی پسندوں کے درمیان ہفتے کے روز تصادم میں ایک کارکن ہلاک ہو گیا۔ تصادم اس وقت ہوا جب علاحدگی پسندوں نے ایک احتجاج کے دوران بندرگاہی شہر عدن میں سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کرنا شروع کر دیں۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر عدن ہسپتال کے ایک میڈیکل اسسٹنٹ نے اے ایف پی کو بتایا کہ قانون نافذ کرنے والوں ادارے کے اہلکاروں کی فائرنگ سے ایک شخص ہلاک جبکہ دو دیگر زخمی ہو گئے۔ علاحدگی پسندوں نے تصدیق کی ہے کہ ہلاک ہونے والا تحریک کا کارکن تھا۔

خبر رساں ادارے کے مطابق جنوبی یمن میں علاحدگی پسند تحریک کے حامیوں نے اپنے مطالبات کے حق میں مظاہرے کے دوران سڑک بند کرنے کی کوشش کی تو فوج نے انہیں ایسا کرنے سے روکا، اسی دوران جائے مظاہرہ کے قریب عمارتوں میں چھپے علاحدگی پسندوں نے فوج پر فائرنگ کر دی جس کے بعد تصادم شروع ہو گیا۔

سن 1990ء میں کیمونسٹ حکومت خاتمے کے بعد جنوبی اور شمالی یمن کو متحد کر دیا گیا۔ شمالی یمن کی فوج نے چار تک جنوبی یمن میں جاری خانہ جنگی پر قابو پا لیا۔ سن 2011ء میں اس وقت کے صدر علی عبداللہ صالح کے خلاف عوامی احتجاجی مظاہروں میں علاحدگی پسند تحریک شدت پکڑ گئی جس کے نتیجے میں بزرگ رہنما کو صدارت چھوڑنا پڑی تھی۔

عدن کے رہائشیوں نے بتایا کہ خورمکسار، معلا شیخ عثمان اور دار سعد اضلاع کے درجنوں علاحدگی پسندوں نے سڑکوں پر نکل کر راستے بند کرنا شروع کئے جس کے بعد ان کا فوج سے تصادم ہو گیا۔ اہالیاں منصورہ کا کہنا ہے کہ فوج اور علاحدگی پسندوں کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے۔

یاد رہے کہ جمعرات کو ہونے والے مظاہرے صدر علی عبداللہ صالح کی ایوان صدارت سے بیدخلی کے ٹھیک ایک سال بعد ہو رہے ہیں۔