.

بنگلہ دیش: توہین رسالت کے خلاف مظاہرے پر فائرنگ، 3 افراد

پولیس نے مظاہرین پر براہ راست گولی چلا دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بنگلہ دیش میں توہین رسالت کے مرتکب بلاگروں کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین پر پولیس نے فائرنگ کردی ہے جس کے نتیجے میں تین افراد ہلاک اور چالیس زخمی ہوگئے ہیں۔

بنگلہ دیش کے ضلع مانک گنج کے علاقے سنگئیرمیں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے براہ راست فائرنگ کی ہے اور اس سے تین نوجوان زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسے ہیں۔سنگئیر اسپتال کے ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ اٹھارہ شدید زخمیوں کو دارالحکومت ڈھاکا بھیج دیا گیا ہے۔ان میں سے تین کی حالت تشویش ناک ہے۔

مانک گنج کے نائب پولیس سربراہ میزان الرحمان نے بتایا ہے کہ دینی مدارس کے طلبہ سمیت قریبا تین ہزار مظاہرین بلاگروں کے خلاف احتجاج کررہے تھے اور اس دوران انھوں نے مرکزی شاہراہ کو رکاوٹیں کھڑی کرکے بند کردیا جس کے بعد ان کی پولیس کے ساتھ جھڑپیں شروع ہو گئیں۔

انھوں نے بتایا کہ ''جب ہم نے رکاوٹوں کو ہٹانے کی کوشش کی تو مظاہرین نے ہم پر تین اطراف سے لاٹھیوں ،ڈنڈوں ،اینٹوں اور آتشیں اسلحے سے حملہ کردیا اور ہم نے پھر اپنے دفاع میں جوابی فائرنگ کی ہے''۔ان کے بہ قول جھڑپ میں کم سے کم چالیس افراد زخمی ہوئے ہیں۔

میزان الرحمان کا کہنا تھا کہ ''مقامی مسجد کے امام نے مظاہرین کو اکٹھا کرنے کے لیے لاؤڈ اسپیکر کا استعمال کیا۔وہ بلاگروں کو پھانسی دینے کا مطالبہ کررہے تھے اور انھیں بے دین اور ملحد قرار دے رہے تھے''۔تاہم اس پولیس افسر نے یہ نہیں بتایا کہ مشتعل مظاہرین کے حملے میں کتنے پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

بنگلہ دیش میں جمعہ کو بھی ملک کی حزب اختلاف بنگلہ دیشن نیشنلسٹ پارٹی اور جماعت اسلامی کی حمایت یافتہ بارہ چھوٹی جماعتوں نے احتجاجی مظاہرے کیے تھے اور انھوں نے اسلام اور پیغمر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرنے والے بلاگروں کو پھانسی دینے کا مطالبہ کیا تھا۔اس دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں چار افراد ہلاک اور کم سے کم دوسو زخمی ہوگئے تھے۔

ان ہلاکتوں کے خلاف آج اتوار کو دوبارہ اسلامی جماعتوں کی اپیل پر مظاہرے کیے گئے ہیں۔بنگلہ دیش میں گذشتہ کئی روز سے احمد رجب حیدر نامی ایک بلاگر کی اسلام مخالف تحریروں کے خلاف احتجاج کیا جارہا ہے۔رجب حیدر اور ان کے ہم نوا دوسرے بلاگروں نے انٹرنیٹ پر جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے خلاف ایک مذموم چلائی ہے اور اس پر 1971ء کے مبینہ جنگی جرائم کے الزامات میں پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔

رجب حیدر کو گذشتہ ہفتے ڈھاکا میں ان کے گھر میں قتل کردیا گیا تھا۔ان کے قتل کے بعد سے بنگلہ دیشی سوشل میڈیا پر ان کی اسلام مخالف تحریروں کو دوبارہ پوسٹ کررہے ہیں اور ان کے خلاف اسلامی جماعتوں اور گروپوں کے احتجاج کا سلسلہ بھی جاری ہے جس کی وجہ سے اس ملک میں راسخ العقیدہ اسلام پسند طبقات اور مذہب بیزار قوم پرستوں کے درمیان شدید کشیدگی پائی جارہی ہے۔

بنگلہ دیش کی عدالتوں میں جماعت اسلامی کے ضعیف العمر لیڈروں اور کارکنان کے خلاف 1971ء کی جنگ میں پاکستان کی فوج کا ساتھ دینے کی پاداش میں مقدمات بھی چلائے جارہے ہیں اور بعض کو جنگی جرائم کا مرتکب قرار دے موت اور قید وبند کی سزائیں سنائی جاچکی ہیں۔