اسرائیلی ایٹمی پروگرام کے سربراہ کا دوسرا لیپ ٹاپ چوری

حساس معلومات اور خفیہ کوڈ منکشف ہونے کا اندیشہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل کے حساس ترین ایٹمی پروگرام کے سربراہ شاؤل ہوریو کا دوسرا لیپ ٹاپ چوری ہو گیا ہے۔ لیپ ٹاپ میں انتہائی حساس نوعیت کی معلومات اور متعدد اہم تنصیبات تک رسائی کے خفیہ کوڈ اور دوسری اہم دستاویزات محفوظ تھیں۔

صہیونی میڈیا کے مطابق لیپ ٹاپ شاؤل کے گھر سے چرایا گیا تاہم فوجی خفیہ اداروں نے اس ہائی پروفائل اور حساس چوری کی خبر میڈیا تک لیک نہیں ہونے دی۔

تاہم بدھ کے روز ہوریو کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں اس سربستہ راز سے پردہ اٹھاتے ہوئے صرف اتنا بتایا گیا کہ اسرائیلی نیوکلئر پروگرام کے سربراہ گھر پر ڈکیتی کی کارروائی کا نشانہ بنے، جس میں ان کا پرس، مختلف دستاویزات اور 'مواصلاتی آلہ' چرا لیا گیا۔ ملک کے حساس ایٹمی پروگرام کے سربراہ وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو براہ راست جوابدہ ہوتے ہیں۔


بربنائے عہدہ انہیں ملک کے اہم ٹاپ سیکرٹس بشمول ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں موساد کے خفیہ ڈیٹا تک رسائی حاصل ہے۔ اسرائیلی اٹامک کمیشن نے ایک بیان میں واضح کیا کہ ہوریو کے چوری ہونے والے لیپ ٹاپ میں کوئی حساس معلومات نہیں تھیں۔ صہیونی ریاست کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے شاؤل ہوریو کا یہ دوسرا لیپ ٹاپ ہے جسے چوری کیا گیا۔

شاؤل ہوریو کے ذاتی محافظوں اور ان کے بنگلے کی سی سی ٹی وی کے ذریعے نگرانی کے باوجود یہ امر انتہائی حیرت کا باعث ہے کہ ان کے گھر میں مبینہ ڈکیٹی کی واردات کی گئی۔ یہ سہولت حکومت میں شامل وزراء کو بھی حاصل نہیں ہوتی۔

عبرانی اخبار 'ہارٹز' نے جائے واردات کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں شائع مشاہدات میں بتایا ہے کہ بادی النظر میں ڈکیٹی کے آثار کے طور پر گھر کے سامان کی الٹ پلٹ نہیں کی گئی تھی۔ اس سے قبل بھی ایک ایسی ہی واردات میں ان کا صرف کمپیوٹر چرایا گیا، تاہم اس کے متعلق یہ واضح نہیں ہو سکا تھا کہ اسے ہوریو ذاتی استعمال میں لاتے تھے یا پھر وہ سرکاری امور کی انجام دہی میں ان کے استعمال میں رہتا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں