.

سیکیورٹی اہلکار لیبی پارلیمنٹ کا محاصرہ ختم کرانے میں کامیاب

نیشنل کانگریس کا گھیراؤ کرنے والے اخوانی تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا سے 'العربیہ' کے نمائندے نے بتایا ہے کہ نئے پارلیمانی سال کے آغاز پر مسلح افراد کے پارلیمنٹ پر حملے کے بعد عمارت میں محصور ہونے والے صدر اور پارلیمنٹ [نیشنل کانگریس] کے بعض ارکان کو صدارتی باڈی گاڈز نے باہر نکال لیا ہے۔ مسلح حملے کا مقصد منتخب پارلیمنٹرینز کو ملک میں سیاسی تنہائی کا قانون منظور کرنے پر مجبور کرنا ہے۔
خیال کیا جاتا ہے کہ مسلح افراد کا تعلق اخوان المسلمون سے اور انہوں نے اپنے مطالبات منوانے کے لئے لیبیا کی جنرل نیشنل کانگریس کا محاصرہ کیا تھا۔
مجوزہ مسودہ قانون کو گزشتہ برس دسمبر میں منتخب ایوان میں پیش کیا گیا تھا۔ قانون منظور ہونے کی صورت میں مقتول مرد آہن کرنل معمر القذافی کے دور میں ان کے ہم پیالہ اور ہم نوالہ افراد کو کسی بھی سیاسی عمل میں شرکت سے روکا جا سکے گا۔
لیبیا میں کشیدگی کی یہ سب سے تازہ مثال ہے۔ وزیرا عظم علی زیدان نے بتایا کہ اپنے مطالبات کے حق میں مسلح احتجاج کرنے والوں نے منتخب ارکان اسمبلی کو باہر جانے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے بتایا کہ صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے میں نے سیکیورٹی فورس کو علاقے کا محاصرہ کرنے کا حکم دے دیا تھا، تاہم قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو طاقت کے استعمال کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔
لیبی پارلیمنٹ کے ایک رکن عبدالرحمن الشاطر نے بتایا کہ واقعے کے کئی گھنٹوں بعد احتجاج کرنے والوں نے کم سے کم 100 محصور منتخب نمائندوں کو باہر بلنڈنگ سے باہر نکلنے کی اجازت دے دی۔
برطانوی خبر رساں ادارے 'رائیٹرز' سے بات کرتے ہوئے عبدالرحمن الشاطر نے کہا کہ" بالآخر مظاہرین نے ہمیں باہر نکلنے کی اجازت دی، جس کے بعد وہ خود بھی منتشر ہو گئے۔ انہوں نے بتایا کہ نیشنل کانگریس کے اسپیکر محمد المقریف احتجاجی مظاہرین کے محاصرے کے وقت عمارت میں موجود تھے۔
ارکان پارلیمنٹ نے سیاسی تنہائی کے مسودہ قانون کی منظوری کے لئے ووٹنگ کرنا تھی لیکن ایوان کے باہر اس کی منظوری کے حق میں مسلح مظاہرین کی موجودگی سے اس پر ووٹنگ مؤخر کر دی گئی۔
مبصرین کے مطابق اس متنازعہ قانون کی وجہ سے لیبی پارلیمنٹ کے اسپیکر المقریف جیسے لوگ بھی متاثر ہو سکتے ہیں کیونکہ وہ قذافی کے دور حکومت میں بھارت کے لئے طرابلس کے سفیر کے طور پر خدمات سرانجام دے چکے ہیں، تاہم انہوں نے 80ء کی دہائی میں کرنل قذافی کی حکومت سے علاحدگی اختیار کر لی تھی۔