.

وینزویلا کے صدر ہوگو شاویز 58 برس کی عمر میں چل بسے

سرطان سے دو سال سے جاری جنگ ہار گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لاطینی امریکا کے ملک وینزویلا کے صدر ہوگو شاویز مہلک مرض سرطان سے دو سال سے جاری جنگ میں زندگی کی بازی ہار گئے ہیں۔ان کی عمر اٹھاون برس تھی۔

غریب نواز ہوگو شاویز 2011ء کے وسط سے کینسر کے مہلک مرض میں مبتلا تھے۔اس دوران کیوبا میں ان کی چار مرتبہ سرجری کی گئی۔آخری مرتبہ 11دسمبر2012ء کو ان کی سرجری کی گئی تھی اور اس کے بعدوہ عوام میں نمودار نہیں ہوئے تھے اور نہ ان کی کوئی ویڈیو جاری کی گئی تھی۔

وینزویلا کے نائب صدر نکولس ماڈورو نے بدھ کو علی الصباح وزراء کے ساتھ براہ راست نشری تقریر میں ہوگو شاویز کی موت کا اعلان کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ یہ بہت ہی گہرے صدمے کا لمحہ ہے۔ہم تمام ہم وطنوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ پُرامن رہیں۔یہ الفاظ کہتے ان کی آواز بھرا گئی تھی۔

انھوں نے کہا کہ ''ان کے منصوبے جاری رہیں گے اور ان کے پرچم کو وقار کے ساتھ بلند رکھا جائے گا۔کمانڈر آپ کا بہت بہت شکریہ۔ان تمام لوگوں کی جانب سے شکریہ جن کو آپ نے تحفظ مہیا کیا''۔

ہوگو شاویز کی موت کی اطلاع ملتے ہی لوگ دارالحکومت کیراکس اور دوسرے شہروں میں روتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے۔ وہ ''شاویز زندہ باد'' کے نعرے لگا رہے تھے اور کہہ رہے تھے ہم شاویز ہیں۔ وینزویلا کی سکیورٹی فورسز نے صدر شاویز کی موت کا اعلان ہوتے ہی فوجی اسپتال کو اپنے محاصرے میں لے لیا، جہاں آنجہانی زیر علاج تھے۔

وینزویلا کے سرکاری ٹی وی نے صدر کا قوم سے آخری خطاب نشر کیا ہے جس میں وہ جذباتی انداز میں مخاطب ہیں۔یہ تقریر انھوں نے دسمبر میں سرجری کے لیے کیوبا روانہ ہونے سے قبل کی تھی۔اس سے صرف دوماہ پہلے اکتوبر میں وہ چھے سال کی مدت کے لیے دوبارہ ملک کے صدر منتخب ہوئے تھے۔

شاویز نے اپنے دوراقتدار میں غریب نواز معاشی پالیسیاں اپنائی تھیں جس کی وجہ سے کاروباری طبقہ اور سرمایہ دار انھیں اپنا مخالف سمجھتے تھے۔انھوں نے ملک کے غریب طبقات کے لیے تیل کی برآمد سے حاصل ہونے والی آمدن سے خوراک پر زرتلافی دیا اور انھیں صحت کی مفت سہولتیں مہیا کیں۔

وہ کرشماتی شخصیت کے مالک تھے اور عالمی منظر نامے میں انھوں نے خود کو امریکا مخالف لیڈر کے طور پر منوایا۔وہ ماضی میں خاص طور سابق صدر جارج ڈبلیو بش کی انتہا پسندانہ اور جنگ پسندی پر مبنی جارحانہ پالیسیوں کی شدید مخالفت کرتے رہے تھے اور انھوں نے ایک مرتبہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں سابق امریکی صدر کو بدبودار شخص کہنے سے بھی گریز نہیں کیا تھا۔ وہ اسرائیل کی فلسطین کش پالیسیوں کے بھی شدید نقاد تھے اور انھوں نے فلسطینی نصب العین کی ہر پلیٹ فارم پر حمایت کی۔ان کی جوشیلی اور جارحانہ تقریروں کی وجہ سے انھیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ان کی موت سے امریکا کی چیرہ دستیوں کے خلاف بولنے والی ایک توانا آواز خاموش ہو گئی ہے۔