.

یمنی صدر نے القاعدہ سے امن معاہدہ مسترد کر دیا

القاعدہ کے جنگجو پہلے ہتھیار ڈالیں: عبد ربہ منصور ہادی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے صدر عبد ربہ منصور ہادی نے علماء اور قبائلی عمائدین کی جانب سے القاعدہ کے ساتھ امن معاہدے کے لیے کوششوں کو مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ القاعدہ کے جنگجو کسی بھی امن سمجھوتے سے قبل ہتھیار ڈالیں۔

ایک یمنی عہدے دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر منگل کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ''صدر چاہتے ہیں القاعدہ کے ارکان پہلے ہتھیار پھینکیں، اپنی کارروائیوں پر پچھتاوے کا اظہار کریں اور اپنے انتہا پسندانہ نظریات کی مذمت کریں''۔

دوسری جانب جزیرہ نما عرب میں القاعدہ نے متعدد ویب سائٹ پر جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ امن معاہدے کے لیے کوششیں ناکام ہو گئی ہیں۔ قبائلی عمائدین اور علماء پر مشتمل ثالثوں نے جنوری میں القاعدہ اور حکومت کے درمیان مصالحتی کوششوں کا آغاز کیا تھا۔ انھوں نے پانچ فروری کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ان کی کوششیں مشکلات سے دوچار ہو گئی ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ صدر عبد ربہ منصور ہادی نے امن تجاویز پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا ہے جبکہ جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کے سربراہ ناصر الوحشی نے ان امن تجاویز کو تسلیم کر لیا تھا۔
لودر میں خودکش بم حملہ

القاعدہ کے ساتھ مصالحتی کوششوں کے تناظر میں یہ اطلاع بھی سامنے آئی ہے کہ جنوبی شہر لودر میں خودکش بمبار نے بارود سے بھری کار ایک عمارت سے ٹکرا کر تباہ کر دی ہے جس کے نتیجے میں حکومت کی حامی ملیشیا کے بارہ ارکان ہلاک اور سترہ زخمی ہو گئے ہیں۔

ایک یمنی عہدے دار نے بتایا ہے کہ خودکش حملے میں القاعدہ کے خلاف جنگ میں حکومت کے حامی شہریوں پر مشتمل پاپولر کمیٹیوں لے ارکان کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ بم دھماکے میں مرنے والوں کے اعضاء دور دور تک بکھر گئے اور واقعے کے فوری بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کا محاصرہ کر لیا۔ لاشوں اور زخمیوں کو اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

یمنی سکیورٹی فورسز نے گذشتہ سال جون میں القاعدہ کے جنگجوؤں کو لودر اور صوبہ ابین کے دوسرے شہروں سے جنگی کارروائیوں کے بعد نکال باہر کیا تھا۔ اس دوران یمن میں امریکا کے بغیر پائیلٹ جاسوس طیارے بھی القاعدہ کے جنگجوؤں کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔ اب شہروں سے بے دخل ہونے کے بعد القاعدہ کے جنگجوؤں نے پہاڑی علاقوں میں اپنی خفیہ کمین گاہوں میں پناہ لے رکھی ہے اور وہ یمنی سکیورٹی فورسز پر خودکش حملے کرتے رہتے ہیں۔