.

شمالی کوریا کی امریکا پر پیشگی جوہری حملے کی دھمکی

اقوام متحدہ کا کمیونسٹ ریاست پر نئی پابندیوں پر غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شمالی کوریا نے امریکا کو پیشگی جوہری حملے کی دھمکی دی ہے جبکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اس ملک پر نئی سخت پابندیوں پر غور کررہی ہے۔

شمالی کوریا نے امریکا پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ اس پر جوہری حملے کے لیے جنوبی کوریا میں فوجی مشقیں کررہا ہے۔ واضح رہے کہ شمالی کوریا امریکا اور اس کے آلہ کار جنوبی کوریا کو روزانہ ہی جنگ کی دھمکیاں دے رہا ہے۔

شمالی کوریا کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ ''امریکا جوہری جنگ کی آگ سلگانے کو ہے،ایسے میں ہم اپنے عظیم مفادات کے تحفظ کے لیے جارح کے ہیڈکوارٹرز پر پیشگی جوہری حملے کے لیے اپنے حق کو استعمال کریں گے''۔

شمالی کوریا کے بے نامی ترجمان کا یہ بیان سرکاری خبررساں ایجنسی کے سی این اے نے جاری کیا ہے۔ترجمان نے مزید کہا کہ 11مارچ کو جب امریکا اور جنوبی کوریا کی مشترکہ فوجی مشقیں مکمل مرحلے میں داخل ہوں گی تو شمالی کوریا کو فوجی اقدام کا حق حاصل ہوگا۔شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کے ساتھ 53ـ1950ء کی جنگ کے بعد طے پائے معاہدے کو بھی غیر موثر قرار دے دیا ہے۔

شمالی کوریا نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 12فروری کو تیسرا جوہری دھماکا کیا تھا۔اس نے یہ بھی اعلان کیا تھا کہ اس نے جوہری ہتھیاروں کو محفوظ بنانے کے لیے پیش رفت کی ہے لیکن شمالی کوریا کے بارے میں یہ یقین کیا جاتا ہے کہ وہ امریکا کی سرزمین پر جوہری بم پھینکنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل شمالی کوریا کے خلاف نئی پابندیاں عاید کرنے کے لیے ایک قرار داد پر غور کر رہی ہے۔اس کے تحت کمیونسٹ ریاست پر سخت معاشی پابندیاں عاید کی جائیں گی اور اس کا بحری محاصرہ کیا جائے گا۔

شمالی کوریا اس وقت بڑے پیمانے پر فوجی مشقیں بھی کررہا ہے اور فوج نے حکومت کی جانب سے امریکا اور جنوبی کوریا کے خلاف حالیہ دھمکیوں کے حق میں پریڈ کی ہے۔جنوبی کوریا اور امریکا بھی سالانہ فوجی مشقیں کررہے ہیں اور ان کی یہ مشقیں اپریل کے آخر میں ختم ہوں گی۔

جنوبی کوریا کے ایک عہدے دار کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کی فوجی مشقوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جارہا ہے اور یہ پہلی مرتبہ دیکھنے میں آرہا ہے کہ شمالی کوریا ریاستی سطح پر بری ،بحری اور فضائی فوجی مشقیں کررہا ہے۔اس کی جانب سے کسی بھی ممکنہ اشتعال انگیزی سے نمٹنے کے لیے تیاری کی جارہی ہے۔جنوبی کوریا کی فوج نے گذشتہ روز دھمکی دی تھی کہ اگر شمالی کوریا نے کوئی جارحیت کی تواس کو جواب دیا جائے گا اور اس کی قیادت کو نشانہ بنایا جائے گا۔