.

امریکا کی عراق جنگ میں اخراجات 200 کھرب ڈالرز سے متجاوز

1 لاکھ 76 ہزار سے 1 لاکھ 89 ہزار کے درمیان ہلاکتیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق پر سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کی مسلط کردہ جنگ کی امریکا کو لاگت ایک کھرب ستر ارب ڈالرز آئی ہے اور اس جنگ میں حصہ لینے والے فوجیوں کو چار سو نوے ارب ڈالرز سے زیادہ مالیت کے فوائد دینا پڑے ہیں۔اس طرح آیندہ چار عشروں میں اس جنگ کے کل اخراجات بڑھ کر چھے کھرب ڈالرز ہوجائیں گے۔

عراق جنگ میں ایک لاکھ چونتیس ہزار شہری مارے گئے تھے اور اس جنگ کے مابعد اثرات کے نتیجے میں اس سے چار گنا زیادہ اموات کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ عراق جنگ کے اخراجات اور ہلاکتوں کے یہ اعداد وشمار براؤن یونیورسٹی کے واٹسن انسٹی ٹیوٹ برائے بین الاقوامی مطالعات کی ''جنگی منصوبے کی لاگت'' نامی رپورٹ میں دیے گئے ہیں اور یہ رپورٹ جمعرات کو جاری کی گئی ہے۔

اس مطالعے کے مطابق عراق میں جنگ کے دوران اگر سکیورٹی فورسز ،مزاحمت کاروں ،صحافیوں اور انسانی امدادی کارکنان کی ہلاکتوں کو بھی شمار کر لیا جائے تو اس جنگ میں ایک لاکھ چھہتر ہزار سے ایک لاکھ نواسی ہزار کے درمیان انسان کام آئے تھے۔

عراق جنگ سے متعلق یہ رپورٹ جامعہ کے ماہرین تعلیم اور اساتذہ نے مرتب کی ہے اور یہ 19 مارچ 2003ء کو امریکا کی قیادت میں غیرملکی فوجوں کے عراق پر حملے کے دس سال پورے ہونے سے چندے قبل جاری کی گئی ہے۔

واٹسن انسٹی ٹیوٹ نے اس سے پہلے 2011ء میں امریکا پر نائن الیون حملوں کا ایک عشرہ پورا ہونے کے موقع پر ایک اور رپورٹ جاری کی تھی اور اس میں امریکا کی عراق اور افغانستان میں جنگوں کے اخراجات کی تفصیل اور ان میں ہلاکتوں کے اعدادوشمار دیے گئے تھے۔اس رپورٹ میں ان دونوں ممالک کے علاوہ امریکا کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن ریاست کا کردار ادا کرنے والے ملک پاکستان میں بم دھماکوں اور دہشت گردی کے واقعات میں ہلاکتوں کے اعداد وشمار دیے گئے تھے۔

2011ء کے اس مطالعے میں بتایا گیا تھا کہ ان دونوں جنگوں کے کل اخراجات تین کھرب ستر ارب ڈالرز رہے تھے اور ان جنگوں کے دوران معذور ہونے والے امریکی فوجیوں کے دعووں کی رقم کو بھی اس میں شامل کر لیا جائے تو اس کی کل مالیت چار کھرب ڈالرز سے بڑھ جاتی ہے۔

ان تینوں جنگوں کے مہلوکین کی تعداد پہلے دولاکھ چوبیس ہزار بتائی گئی تھی۔پھر اس تعداد کو بڑھا کر دولاکھ اٹھاون ہزار کردیا گیا۔اس کے دوسال کے بعد اب ہلاکتوں کی تعداد دولاکھ بہتر ہزار سے تین لاکھ انتیس ہزار کے درمیان بتائی گئی ہے۔

اس رپورٹ میں امریکا کے کل جنگی اخراجات اور مستقبل میں ان جنگوں سے متعلق مسائل کی وجہ سے ہونے والے اخراجات کا بھی تخمینہ لگایا گیا ہے۔ 2011ء کے مطالعے کے مطابق ایک عشرے کی جنگ کے بعد اس میں حصہ لینے والے فوجیوں کی معذوری اور میڈیکل کلیمز کی کل مالیت تینتیس ارب ڈالرز رہی تھی جودوسال کے بعد بڑھ کر ایک سو چونتیس ارب ستر کروڑ ڈالرز ہوگئی ہے۔

رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ عراق جنگ سے امریکا کو حاصل وصول کچھ نہیں ہوا جبکہ عراق ابھی تک اس کے ''صدمے'' سے باہر نہیں نکل سکا ہے۔اس جنگ کے نتیجے میں سخت گیر اسلامی جنگجوؤں کو سر اٹھانے کا موقع ملا ہے اور انسانی حقوق کی پامالی ہوئی ہے۔

سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کی انتطامیہ نے دنیا کے سامنے عراق جنگ کا یہ جواز پیش کیا تھا کہ سابق صدر صدام حسین کے پاس وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا ذخیرہ موجود ہے لیکن جب انھوں نے عراق پر چڑھائی کر لی اور صدام حسین کی حکومت کو چلتا کرنے کے بعد ملک کا کونا کونا چھان مارا تو انھیں ایسے کوئی خطرناک ہتھیار اور نہ ان کا کوئی ذخیرہ ملا تھا۔

اس وقت عراق کے خلاف جنگ کے حامی دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے رہے تھے کہ صدام حسین کے پاس خطرناک ہتھیار موجود ہیں اور وہ دنیا کے امن کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔چنانچہ اس جنگ کے دوران امریکی فوج کو عراق سے صدام حسین کے خطرناک ہتھیار تو نہ مل سکے۔البتہ تب امریکی صدر بش دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے رہے تھے کہ صدام حسین کے بغیر دنیا زیادہ محفوظ ہوگئی ہے۔