.

صومالی دارالحکومت میں کار بم دھماکا، 10 افراد ہلاک

الشباب نے خودکش حملے کی ذمے داری قبول کرلی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو میں صدارتی محل کے نزدیک ایک خودکش کار بم دھماکے میں دس افراد ہلاک اور کم سے کم دس زخمی ہوگئے ہیں۔

صومالی حکومت کے خلاف برسرپیکار جنگجو تنظیم الشباب نے اس خودکش حملے کی ذمے داری قبول کرلی ہے۔سوموارصدارتی محل اور نیشنل تھیٹر کے درمیان واقع مکہ المکرمہ روڈ پر بم حملے میں موغادیشو کے سکیورٹی چیف خالف احمد علیگ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔

پولیس حکام اور باغیوں کے مطابق خودکش حملہ آور نے صومالی دارالحکومت کے وسط میں صدارتی محل سے صرف ایک سومیٹر کے فاصلے پراپنی بارود سے بھری کار سکیورٹی چیف کی گاڑی سے ٹکرانے کی کوشش کی لیکن وہ اس میں ناکام رہا اور بم دھماکے کے نتیجے میں اس شاہراہ پر ایک منی بس تباہ ہوگئی۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ بم دھماکے میں سات شہری اور تین سرکاری سکیورٹی افسر ہلاک ہوئے ہیں جبکہ سات افراد زخمی ہوئے ہیں۔زخمیوں میں سکیورٹی چیف خالف احمد بھی شامل ہیں۔ بم دھماکے کے نتیجے میں ایک دیوار ،ایک ٹی شاپ اور دوچھوٹی دکانیں تباہ ہوگئی ہیں۔

موغادیشو کے ایک سنئیر پولیس افسر عبدالقادر محمود نے بتایا ہے کہ مرنے والے شہری منی بس میں سوار تھے اور یہ مسافر بس اچانک خودکش بمبار کی کار کی زد میں آ گئی تھی۔ دھماکا اس قدر شدید تھا کہ اس کی آواز دور دور تک سنی گئی۔اس واقعے کے وقت صومالی صدر حسن شیخ محمود موغادیشو کے دوسرے حصے میں موجود تھے۔

واضح رہے کہ صومالی سکیورٹی فورسز نے افریقی یونین کے دستوں کی مدد سے اگست 2011ء میں الشباب کے جنگجوؤں کو موغادیشو سے نکال باہر کیا تھا۔تب سے اس شہر کی سکیورٹی میں بہتری آئی ہے۔تاہم شہر میں وقفے وقفے سے خودکش بم دھماکے اور بم حملے ہوتے رہتے ہیں۔رواں سال یہ سب سے تباہ کن بم دھماکا ہے۔

الشباب کے ترجمان شیخ علی محمد ریغ نے اس خودکش بم دھماکے کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملہ گذشتہ چند ہفتوں کے دوران تنظیم کے کارکنان کی ہلاکتوں کے انتقام میں کیا گیا ہے۔

ترجمان کے بہ قول ایک مجاہد نے موغادیشو کے نیشنل سکیورٹی چیف کو نشانہ بنایا تھا۔انھوں نے دعویٰ کیا کہ وہ حملے میں شدید زخمی ہوگئے ہیں اور ان کے متعدد محافظ اور دوسرے سکیورٹی حکام ہلاک ہوگئے ہیں۔