.

'ایرانی حکومت کشیدگی کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے'

ایران میں نوروز کے آغاز پر امریکی صدر کا ویڈیو بیان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر براک اوباما نے ایران کے عوام سے مخاطب ہوکر کہا ہے کہ ان کے امریکا کے ساتھ نئے سرے تعلقات استوار ہوسکتے ہیں لیکن اس کے لیے شرط یہ ہے کہ ایرانی حکومت اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں مکمل معلومات فراہم کرے۔

امریکی صدر نے یہ بات مشرق وسطیٰ کے دورے پر روانہ ہونے سے قبل اور ایران میں نئے سال نوروز کے آغاز کے موقع پر اپنے ویڈیو بیان میں کہی ہے۔انھوں نے کہا کہ ''اب ایرانی حکومت کے لیے وقت آگیا ہے کہ وہ کشیدگی کے خاتمے اور اپنے جوہری ایشو کے پائیدار حل کے لیے فوری اور بامقصد اقدامات کرے''۔

انھوں نے کہا:''ایرانی لیڈر یہ کہتے چلے آرہے ہیں کہ ان کا جوہری پروگرام طبی تحقیق اور بجلی پیدا کرنے کے لیے ہے لیکن وہ اب تک عالمی برادری کو یہ بات باورکرانے میں ناکام رہے ہیں کہ ان کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔اسی لیے دنیا اس تنازعے کو حل کرنا چاہتی ہے اور ایران کو اس وقت عالمی تنہائی کا سامنا ہے''۔

اوباما نے کہا کہ ''امریکا ایرانی تنازعے کے پرامن سفارتی حل کو ترجیح دے گا''۔وہ بدھ کو اسرائیل پہنچنے والے ہیں جہاں وہ صہیونی قیادت سے دوسرے امور کے علاوہ ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں بھی تبادلہ خیال کریں گے۔اسرائیل ماضی قریب میں ایران کی جوہری تنصیبات کو تباہ کرنے کے لیے فوجی حملے کی دھمکیاں دیتا رہا ہے لیکن صدر اوباما نے انتہا پسند صہیونیوں کو ایران پر چڑھائی کے لیے اپنی حمایت کی یقین دہانی نہیں کرائی تھی جس کی وجہ سے وہ جنگ سے باز رہے ہیں۔