.

فرانسیسی یرغمالی کو مالی میں مداخلت پر قتل کردیا گیا: القاعدہ

فرانس کی مالی میں القاعدہ کے خلاف فوجی کارروائی کا ردعمل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شمالی افریقہ میں القاعدہ کی شاخ سے وابستہ جنگجوؤں نے ایک فرانسیسی یرغمالی کا سرقلم کردیا ہے اور کہا ہے کہ یہ کارروائی مالی میں فرانس کی فوجی مداخلت کے ردعمل میں کی گئی ہے۔

موریتانیہ کی خبررساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق اسلامی مغرب میں القاعدہ نے 10 مارچ کو فرانسیسی ماہرارضیات فلپ وردان کو قتل کردیا تھا۔القاعدہ نے اسے مالی کے شمالی قصبے حمبوری سے نومبر 2011ء میں اغوا کر لیا تھا۔

القاعدہ کے ایک کمانڈر نے اے این آئی کو فون کرکے بتایا ہے کہ ''وردان کوشمالی مالی میں فرانس کی فوجی مداخلت کے ردعمل میں قتل کیا گیا ہے''۔القاعدہ کی اس تنظیم نے مغربی افریقہ میں چودہ اور غیرملکیوں کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ان میں سات کو تنظیم نے ساحل کے علاقے میں یرغمال بنایا ہوا ہے۔

قیروانی نام سے اسلامی مغرب میں القاعدہ کے ترجمان کے طور پر شناخت کرنے والے جنگجو کا کہنا تھا کہ ''وردان ایک فرانسیسی جاسوس تھا۔اب باقی یرغمالیوں کی ذمے داری صدر فرانسو اولاند پر عاید ہوتی ہے''۔

مقتول کے والد ژاں پائرے وردان نے فرانس کے آرٹی ایل ریڈیو سے منگل کو گفتگو کرتے ہوئے شکایت کی تھی کہ انھیں فرانسیسی حکام کی جانب سے کچھ نہیں بتایا جارہا اور نہ کوئی اطلاع دی جارہی ہے کہ یرغمالیوں کے ساتھ کیا معاملہ پیش آیا ہے۔

فرانس نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے تاوان ادا کرنے سے انکار کردیا تھا۔اس حوالے سے جب مقتول وردان سے سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ''متاثرہ خاندان ریاست کے اس طرح کے فیصلوں کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے''۔

مالی کے شمالی علاقے میں فرانس کی فوج 11جنوری سے القاعدہ سے وابستہ جنگجوؤں اور اسلامی تنظیموں کے خلاف کارروائیاں کررہی ہے اور اس نے ان کے ٹھکانوں پر تباہ کن بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں القاعدہ اور اس کی حامی تنظیموں کے جنگجو مالی کے شمالی شہروں اور قصبوں سے پسپائی اختیار کرکے پہاڑی علاقوں کی جانب چلے گئے ہیں۔

اب وہ شمال کے پہاڑی علاقوں میں دوبارہ اپنی صف بندی کررہے ہیں اورفرانسیسی فوج یا حکومت نواز فورسز کے خلاف انھوں نے گوریلا جنگ شروع کردی ہے۔وہ ''حملے کرو اور بھاگ جاؤ'' کا حربہ استعمال کررہے ہیں یا پھر خودکش حملے کررہے ہیں۔

واضح رہے کہ اسلامی مغرب میں القاعدہ نے اپریل 2012ء سے شمالی مالی میں اپنا کنٹرول سنبھال رکھا تھا۔اس دوران انھوں نے شرعی قوانین کا سخت انداز میں نفاذ کیا تھا جس پر انھیں سخت تنقید کا نشانہ بننا پڑا تھا۔فرانسیسی فوج اب مالی کے شمالی شہروں میں القاعدہ کے بچے کچھے جنگجوؤں کے خلاف گھر گھر تلاشی کی کارروائیاں کررہی ہے۔اسے مالی کے علاوہ چاڈ کی فوج کی مدد بھی حاصل ہے۔