.

عریاں خواتین انجمن کی تیونسی رکن امینہ لاپتا ہو گئیں

امینہ کی عریاں تصاویر کی اشاعت پر قتل کی دھمکیاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یوکرائن میں قائم خواتین حقوق کی انجمن 'فیمن' کا کہنا ہے کہ تیونس میں ان کی تنظیم سے وابستہ انیس سالہ دوشیزہ امینہ اپنے عریاں پوسٹر کی اشاعت کی بعد سے دوبارہ منظر عام پر نہیں آئیں، ان کا موبائل فون بند جا رہا ہے، جس کی وجہ سے ہمیں امینہ کی زندگی کے بارے میں تشویش لاحق ہو رہی ہے۔

یاد رہے امینہ نے گزشتہ دنوں اپنی عریاں تصویر پر چھاتی سے اوپر 'میرا جسم، میری آزادی' لکھوا کر خواتین حقوق کا پرچار کیا تھا، جس کے بعد سے تیونس کے ایک سلفی رہنما العلامی عادل نے انہیں درے مارنے اور قتل کرنے کی سزا دینے کا مطالبہ کیا تھا۔

تیونسی دوشیزہ نے اپنے عریاں سینے والے تصویر 'فیمن' کو ارسال کی تھی۔ اس تنظیم نے حال ہی میں فرانسیسی شہر پیرس میں اپنا دفتر کھولا تھا۔

عریاں تصویر کی بذریعہ فیس بک اشاعت کے فورا بعد اس پر اسلامی حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل کا اظہار دیکھںے میں آیا۔ متعدد افراد نے امینہ کو دماغی امراض کے ڈاکٹر کو دکھانے کا مشورہ دیا کیونکہ عریاں اشتہار بازی کا فعل کسی اسلامی ملک میں ہوش ہو حواس والی دوشیزہ نہیں کر سکتی۔

ادھر یواکرائن میں قائم 'فیمن' خواتین انجمن نے اپنی رکن اور تیونسی دوشیزہ کی زندگی کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ ممکن ہے امینہ کو اس کے اہل خانہ نے دماغی امراض کے کسی ہسپتال میں داخل کرا دیا ہو۔ فیمن کے مطابق امینہ کے اہل خانہ خود اس کی سلامتی کے لئے سب سے بڑا خطرا ہیں۔ ہم اپنی تنونسی رکن کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔