.

قذافی خاندان الجزائر سے کسی عرب ملک منتقل ہو گیا

میزبان عرب ملک انقلاب مخالف نہیں ہے: ذرائع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے مقتول رہ نما کرنل معمر القذافی کے اہل خانہ الجزائر سے ایک عرب ملک منتقل ہو گئے ہیں۔ عرب میزبان ملک نے قذافی خاندان کے تمام افراد سے اس بات کا عہد لیا ہے کہ وہ ان کی سرزمین لیبیا کے خلاف ابلاغی یا سیاسی جدوجہد کے لئے استعمال نہیں کریں گے۔

عرب روزنامے 'الشرق الاوسط' نے شناخت ظاہر نہ کرنے والے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ میزبان عرب ملک نے لیبی رہنما کرنل قذافی کی بیوہ صفیہ فرکاش، ان کے تین بچوں عائشہ، محمد اور ھانیبال اور قذافی کے پوتے پوتیوں کو اپنے ہاں سیاسی پناہ دینے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

قذافی خاندان کے ساتھ طے پانے والے سیاسی پناہ کے بارے میں میزبان عرب ملک نے لیبی حکومت اور الجزائر کو آگاہ کر دیا ہے تاکہ اس ڈیل کے بارے میں کسی بدگمانی سے بچا جا سکے۔ عرب ملک میں سیاسی پناہ کے بعد الجزائر سے ان کے سفر میں سہولت کی خاطر قذافی خاندان کے اہل خانہ کو خصوصی ڈیپلومیٹک پاسپورٹ جاری کئے گئے ہیں۔

لیبی حکام کا کہنا ہے کرنل معمر القذافی کے اہل خانہ کا الجزائر سے باہر سفر سہ فریقی معاہدے کا نتیجہ ہے۔ لیبی حکام نے قذافی کے قتل کے بعد ان کے اہل خانہ کے الجزائر سے پرامن نقل مکانی پر اعتراض نہیں کیا۔ انہی ذرائع کا کہنا ہے کہ عبوری حکومت کے سربراہ ڈاکٹر علی زیدان نے قذافی خاندان کے الجزائر سے کسی تیسرے ملک سفر کے بعد علاقے کا دورہ کیا جو اس بات کا بین ثبوت تھا کہ لیبیا اپنے ہمسایہ ملکوں کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتا ہے، طرابلس کو اس بات سے غرض نہیں ہے کہ ہمسایہ ملک قذافی خاندان کے بارے میں کیا نقطہ نظر رکھتے ہیں۔

ایک اور لیبی عہدیدار نے بتایا کہ جس عرب ملک نے کرنل قذافی کے اہل خانہ کو اپنے ہاں سیاسی پناہ دی ہے، وہ ماضی میں لیبی انقلاب کے حوالے سے زیادہ سرگرمی نہیں دکھاتا رہا ہے۔ قذافی خاندان کسی ہمسایہ افریقی یا یورپی ملک میں سیاسی پناہ کے بجائے اپنی باقی زندگی عرب ملک میں گذارنے کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں۔

لیبیا میں الجزائر کے سفیر عبدالحمید بوازھر نے گزشتہ روز اس امر کی تصدیق کی تھی کہ قذافی کے اہل خانہ میں کوئی فرد ان کی سرزمین پر مقیم نہیں اور تمام خاندان بہت پہلے ایک تیسرے عرب ملک منتقل ہو گیا تھا۔ قذافی مرحوم کا بیٹا الساعدی تاحال نیجر میں مقیم ہے جبکہ الساعدی کا ایک اور بھائی سیف الاسلام لیبی شہر الزنتان کی جیل میں قید ہے۔ ان کے خلاف مئی میں دوبارہ مقدمے کی سماعت شروع ہو گی جبکہ سیف الاسلام قذافی متعدد جنگی جرائم کے الزام میں عالمی عدالت کو بھی مطلوب ہیں۔