.

ایران علاقائی مسائل کے حل میں مرکزی اہمیت رکھتا ہے: مہمانپرست

گزشتہ برس تہران کے بیرونی دنیا سے تعلقات مضبوط ہوئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی دفتر خارجہ کے ترجمان رامین مہمانپرست کا کہنا ہے کہ ہمارے دشمن ایران کو تنہا کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کی تمام کوششوں کے باوجود تہران علاقائی مسائل کے حل میں ایک مرکزی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی ترجمان کا کہنا تھا ہم پر عائد سیاسی اور اقتصادی پابندیوں کا نتیجہ دشمنوں کے حق میں نہیں نکلا۔ ان کا کہنا تھا کہ علاقے کے ممالک جانتے ہیں کہ خطے کو درپیش مسائل کا حل ایران کی شرکت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کی کامیابیوں کو 'شو کیس' کرنے والی نمائش کے موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے مہمانپرست کا کہنا تھا کہ"ہم خطے کے ملکوں کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں، اپنی اسی کوشش کے ذریعے ہم تمام ملکوں سے بہتر تعلقات قائم کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔"

حل طلب امور کے لئے امریکا کی براہ راست مذاکرات کی پیشکش کا ذکر کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے کہا کہ امریکا ایسی باتیں کر کے رائے عامہ کو گمراہ کرنا چاہتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں جب تک امریکا کے ایران سے تعلقات بہتر نہیں ہوتے اس وقت تک کسی ایسے مذاکراتی عمل کی کامیابی کا کوئی امکان نہیں ہے۔" انہوں نے کہا کہ امریکا سے تعلقات کے حوالے سے ایران کے مرشد اعلی علی خامنہ ای ہی حتمی اور مناسب فورم ہیں۔

بین الاقوامی پابندیوں کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے ایرانی عہدیدار کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر پابندیوں کے باوجود ہم نے ملکی امور اور بالخصوص اپنا ایٹمی پروگرام جاری رکھ کر اپنی صلاحیت کا لوہا منوایا ہے۔

یو این اور دیگر مغربی ملکوں کی جانب سے ایرانی نیوکلئر پروگرام کی پاداش میں ایران پر عاید پابندیوں کا یقیناً ملکی معیشت پر اثر پڑا ہے لیکن ان حربوں کے باوجود ہم نے اپنی ایٹمی پروگرام جاری رکھا، گزشتہ چند مہینوں کے دوران ایران پر تیل برآمد کی پابندیوں پر بڑی شد و مد سے عمل کرایا گیا۔ ان کارروائیوں سے ایرانی ریال کی بین الاقوامی کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کے مقابلے میں قدر میں بے پناہ کمی آئی۔