.

شہریوں کو قانونی طور پر شام جانے سے نہیں روک سکتے: تیونسی وزیراعظم

تیونسی نوجوان ترکی اور لیبیا کے راستے شام جا رہے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونسی وزیراعظم علی العریض نے کہا ہے کہ ان کا ملک قانونی طور پراپنے شہریوں کو شام جانے سے نہیں روک سکتا۔

علی العریض نے فرانس کے ٹی وی چینل 24سے گفتگو کرتے ہوئے انٹرویو میں کہا کہ ''وہ تیونسی شہریوں کے شام میں مسلح اپوزیشن کے ساتھ مل کر لڑائی میں حصہ لینے سے لاحق خطرات سے آگاہ ہیں''۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ تیونسی حکام اپنے شہریوں کو شام جانے سے نہیں روک سکتے۔

تیونس کی حکمراں جماعت سے تعلق رکھنے والے علی العریض نے کہا کہ ''میں صورت حال سے اچھی طرح آگاہ ہوں اور مستقبل میں جب شامی بھائیوں کے بحران کا خاتمہ ہوگا،تواس سے پیدا ہونے والے مسائل سے بھی آگاہ ہوں''۔

انھوں نے انکشاف کیا کہ ''تیونسی شہری پہلے لیبیا اور ترکی سیاحت کے لیے جاتے ہیں اور پھر وہاں سے شام چلے جاتے ہیں۔ان لوگوں میں سے جن کے والدین ہمیں ان کے ارادوں سے مطلع کرتے ہیں توان کو ہم تیونس جانے سے روک لیتے ہیں لیکن اگر کوئی شہری یہ کہے کہ وہ کام یا سیاحت کے لیے بیرون ملک جانا چاہتا ہے تو ہم اس کو قانونی طور پر نہیں روک سکتے''۔

حال ہی میں منظرعام پر آنے والی میڈیا اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ تیونس کی اسلامی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے کارکنان شام کا رخ کررہے ہیں اور وہاں وہ باغی جنگجوؤں کے شانہ بشانہ صدر بشارالاسد کی فوج کے خلاف لڑرہے ہیں۔

النہضہ کے سربراہ راشدالغنوشی نے گذشتہ ہفتے ایک بیان میں کہا تھا کہ ان کی جماعت کا شام میں صدر بشارالاسد کی فوج کے ساتھ لڑنے کے لیے نوجوان بھیجنے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

تیونس کی دستورساز اسمبلی نے حکام پر زور دیا تھا کہ وہ ان جماعتوں کے نام ظاہر کرے جو تیونسی نوجوانوں کو شام میں لڑائی کے لیے بھیجنے میں ملوث ہیں۔گذشتہ جمعہ کو تیونس کے روزنامے الشروق نے ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ تیونس کی سکیورٹی فورسز نے نوجوانوں کو لڑائی کے لیے بھرتی کرنے اور شام بھیجنے میں ملوث نیٹ ورکس کا خاتمہ کردیا ہے۔

واضح رہے کہ شام جاکر صدر بشارالاسد کی فوج کے خلاف لڑنے والے تیونسی نوجوانوں کے خاندانوں نے گذشتہ ہفتے دارالحکومت تیونس میں پارلیمینٹ ہاؤس کے باہر مظاہرہ کیا تھا اور حکومت سے اپنے بیٹوں کو واپس لانے کا مطالبہ کیا تھا۔