.

تیونس میں کم سن بچی سے زیادتی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

مشتبہ ملزم کے حق میں بیان دینے پر خاتون وزیر سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس میں شہریوں نے بچوں کی نرسری میں ایک تین سالہ بچی کے ساتھ زیادتی کے واقعہ پر احتجاجی مظاہرہ کیا ہے اور خواتین کی امور کی وزیر سحم بیدی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔

مظاہرین میں متاثرہ بچی کے والدین اور دیگر لواحقین بھی شامل تھے۔انھوں نے وزارت کے باہر جمع ہوکر احتجاج کیا اورخاتون وزیر کے خلاف سخت نعرے بازی کی۔ان کا کہنا تھا کہ بچی سے زیادتی کے مرتکب افراد کو تحفظ مہیا کرنے والوں کے لیے ملک میں کوئی جگہ نہیں ہے۔

تیونسی پولیس کے مطابق دارالحکومت کے نواحی علاقے لامرسا میں واقع نرسری کے شقی القلب نگران نے کم سن بچی کے ساتھ متعدد مرتبہ زیادتی کی تھی۔اس مشتبہ ملزم کو ہفتے کے روز گرفتار کر لیا گیا تھا۔

لیکن اسی روز خواتین کی امور کی وزیر بیدی نے کہا تھا کہ اس لڑکی کے خاندان کے ایک رکن کو واقعہ پر مورد الزام ٹھہرایا جانا چاہیے اور نرسری کے نگران کے خلاف کسی اقدام کی ضرورت نہیں۔واضح رہے کہ خاتون وزیر ہی ملک میں نرسریوں کی بھی ذمے دار ہیں۔

متاثرہ بچی کے والد کا کہنا تھا کہ ''تین ہفتے قبل میری زندگی اجیرن ہوگئی تھی۔میری بچی کا وزن محض دس کلو ہے مگر نرسری کے پچپن سالہ نگران نے متعدد مرتبہ اس بچی کے ساتھ زیادتی کی۔اب میری ایک ہی خواہش ہے کہ میری موت آجائے ۔میں صرف مرنا چاہتا ہوں''۔

اس بدنصیب والد نے بھرائی ہوئی آواز کے ساتھ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''میری بیٹی کے ساتھ جو کچھ ہوا ،اس کے باوجود بچوں کی نرسری کھلی ہوئی ہے''۔

اگر نرسری کا ادھیڑ عمر نگران اس واقعہ میں قصوروار قرار پاجاتا ہے،تو اسے سزائے موت کا سامنا ہوسکتا ہے لیکن واضح رہے کہ تیونس میں 1991ء کے بعد سے اب تک کسی کو پھانسی نہیں دی گئی۔آخری مرتبہ بچوں کے ایک قاتل اور ان کی آبروریزی کرنے والے مجرم کو پھانسی دی گئی تھی۔