.

قذافی خاندان کے افراد کی اومان آمد کی تردید

قذافی کی بیوہ، دو بیٹوں اور بیٹی سے متعلق متضاد اطلاعات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں اومان کے سفارت خانے نے اس اطلاع کی تردید کی ہے کہ سابق مقتول صدر معمر قذافی کے خاندان کے بعض افراد الجزائر سے خلیجی ریاست میں منتقل ہوگئے ہیں۔

لیبیا کے وزیرخارجہ محمد عبدالعزیز نے قبل ازیں دوحہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ''قذافی خاندان کے بعض ارکان اومان چلے گئے ہیں''۔انھوں نے کہا کہ اس ضمن میں تینوں متعلقہ ممالک لیبیا،الجزائر اور اومان کی جانب سے جلد ایک سرکاری بیان جاری کیا جائے گا۔

اومانی روزنامے الشبیبہ نے اپنی سوموار کی اشاعت میں اطلاع دی ہے کہ قذافی خاندان کے بعض ارکان گذشتہ اکتوبر سے اومان میں رہ رہے ہیں لیکن ترکی کی اناطولو نیوز ایجنسی نے طرابلس میں اومان کے سفارت خانے کے میڈیا سنٹر کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں اس نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ اس معاملے پر ان کا لیبی حکام سے کوئی رابطہ نہیں ہوا ہے۔

یادرہے کہ کرنل قذافی کی اہلیہ صفیہ ،بیٹی عائشہ اور دو بیٹوں ہنیبل اور محمد نے اگست 2011ء میں طرابلس میں اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد الجزائر میں پناہ لے لی تھی۔ان کے ایک اور بیٹے سعدی اسی سال ستمبر میں بھاگ کر پڑوسی ملک نیجر چلے گئے تھے۔

لیبیا کے سابق صدرکے تین بیٹے معتصم ،سیف العرب اور خمیس باغیوں کے ساتھ لڑائی اور ان کی کارروائیوں میں مارے گئے تھے۔ان کے سیاسی جانشین بیٹے سیف الاسلام کو باغی جنگجوؤں نے نومبر2011ء میں گرفتار کر لیا گیا تھا اور اب ان کے خلاف لیبیا میں مقدمہ چلانے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔

یادرہے کہ قذافی کی اکلوتی بیٹی عائشہ اپنے بھائیوں کے ساتھ 29اگست 2011ء کو لیبیا سے سرحد عبور کرکے الجزائر چلی گئی تھیں اور انھوں نے الجزائر کی حدود میں داخل ہونے کے بعد 30اگست کو ایک بچی کو جنم دیا تھا۔اس سے پہلے ان کے تین بچے تھے۔ان میں سے ایک بیٹی اپنے ماموں کے ساتھ طرابلس میں باب العزیزیہ پر اپریل 2011ء میں نیٹو کے ایک فضائی حملے میں ماری گئی تھی۔اس حملے میں قذافی کے دوپوتے بھی جاں بحق ہوئے تھے۔

مقتول قذافی کے خاندان کے آٹھ افراد کے الجزائر پہنچنے کے چند ہفتے کے بعد یہ اطلاع بھی سامنے آئی تھی کہ وہ الجزائر کے حوری بوم الدین ہوائی اڈے سے مصر کے ایک طیارے پر سوار ہوئے تھے۔تاہم الجزائری اور مصری حکام نے قذافی کے خاندان کی مصر آمد سے متعلق رپورٹس کی تصدیق نہیں کی تھی اور نہ گذشتہ مہینوں کے دوران ان کے بارے میں کوئی اطلاع سامنے آئی تھی کہ وہ کہاں رہ رہے ہیں۔