.

مشرقی افغانستان میں پولیس ہیڈکوارٹرز پر خودکش حملہ

آٓٹھ حملہ آوروں سمیت 5 پولیس اہلکار جاں بحق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کے مشرقی شہر جلال آباد میں منگل کے روز ہونے والے ایک خودکش حملے میں آٹھ حملہ آوروں سمیت پانچ پولیس اہل کار جاں بحق جبکہ چار زخمی ہو گئے۔

تفصیلات کے مطابق آٹھ خودکش حملہ آوروں کے ایک گروہ نے افغان صوبے ننگرہار کے دارالحکومت جلال آباد میں واقع پولیس ہیڈکوارٹرز کی عمارت پر حملہ منگل کی صبح حملہ کیا۔ کابل سے 150 کلومیٹر دور اس حملے کے دوران ایک خودکش حملہ آور نے اچانک کارروائی کرتے ہوئے دھماکا خیز مواد سے بھری ہوئی ایک گاڑی کو پولیس ہیڈکوارٹرز کے داخلی راستے سے ٹکر کر تباہ کر دیا، جس کے بعد اس کے چھے ساتھی حملہ آور عمارت ایک اندر داخل ہوگئے ۔ عمارت کی حدود میں پہنچ کر دو مزید حملہ آوروں نے اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا دیا جبکہ باقی چار حملہ آور سیکورٹی اہلکاروں کے ساتھ فائرفائرنگ کے تبادلے میں مارے گئے۔ مقابلے میں 5 پولیس اہلکار ہلاک جبکہ متعدد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

افغان صوبے ننگر ہار کی پولیس کے سربراہ محمد شریف امین کے مطابق بعض خود کش حملہ آور امریکی فوج کی وردیوں میں ملبوس تھے۔ جس دفتر پر حملہ کیا گیا وہ کوئک ری ایکشن فورس کا دفتر تھا۔ ادھر طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اس حملہ کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مزید حملے کرنے کی دھمکی دی ہے۔ یہ امر بھی اہم ہے کہ کابل کے دورے پر گئے امریکی وزیر خارجہ کے دورے کے دوسرے دن یہ خود کش حملہ کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ افغانستان میں گذشتہ گیارہ سال سے مسلح تصادم جاری ہے اور امریکا اور نیٹو کے قریب ایک لاکھ فوجی افغانستان میں ہیں، جو آئندہ سال افغانستان کی سکیورٹی مقامی فوج کے حوالے کر کے وہاں سے جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

یاد رہے کہ ایک روز قبل امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے دارالحکومت کابل کا غیراعلانیہ دورہ کیا تھا۔ جہاں انہوں نے افغان صدر حامد کرزئی سے ملاقات کے علاوہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے بھی خطاب کیا تھا۔ اس ملاقات میں افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء سمیت ملک میں قیام امن کے لیےطالبان سے مذاکرات کی ضرورت پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔