.

یواے ای میں زیرحراست اسلامیوں سے مزید تحقیقات کا حکم

حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کے الزام میں 94 افراد کے خلاف مقدمہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کی وزارت انصاف نے حکومت کا تختہ الٹنے کے الزام میں زیرحراست اسلامیوں سے مزید تحقیقات کا حکم دیا ہے اور کہا ہے کہ ان کی آواز کی ریکارڈنگ اور مالی حسابات کی مکمل چھان بین کی جائے۔

یو اے ای کی سرکاری خبررساں ایجنسی وام کی اطلاع کے مطابق وزارت انصاف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''منگل کو سکیورٹی عدالت نے ایک فوجداری لیبارٹری کو آوازوں کی ریکارڈنگ کو مدعاعلیہان کی آوازوں سے موازنے کا حکم دیا ہے''۔

عدالت نے وزارت انصاف سے تعلق رکھنے والے چار ماہرین کو مدعاعلیہان کے مالی حسابات کی جانچ پرتال کی ذمے داری سونپی ہے۔مقدمے کی سماعت کے وقت کمرۂ عدالت میں چند ایک کے سوا بیشتر مدعاعلیہان موجود تھے اور مزید سماعت 16 اپریل تک ملتوی کردی گئی ہے۔

سکیورٹی عدالت میں تیرہ خواتین سمیت چورانوے مدعاعلیہان کے خلاف حکومت کا تختہ الٹنے اور ریاست کے خلاف سازش کے الزام میں مقدمہ چلایا جارہا ہے۔ان میں سے دس مدعاعلیہان کے خلاف ان کی عدم موجودگی میں مقدمہ چلایا جارہا ہے۔ان کا تعلق اخوان المسلمون سے وابستہ الاصلاح گروپ سے بتایا گیا تھا۔

عدالت نے اس سازش میں شریک خواتین کو 4 مارچ کو ابتدائی سماعت کے موقع پر ضمانت پر رہا کردیا تھا۔البتہ انھیں حکم دیا تھا کہ وہ ہر سماعت کے موقع پر عدالت میں حاضر رہیں گی۔ غیرملکی میڈیا کو مقدمے کی کارروائی کی سماعت کی اجازت نہیں ہے۔

متحدہ عرب امارات کے پراسیکیوٹرز نے ایک اسلامی گروپ سے تعلق کے الزام میں گرفتار خواتین سے جنوری میں تفتیش شروع کی تھی اور یہ خواتین مبینہ طور پر متحدہ عرب امارات میں اقتدار پر قبضے کے لیے سازش تیار کررہی تھیں۔یو اے ای کے اٹارنی جنرل سالم قبیش نے گذشتہ ماہ ان خواتین پر ملک کے اقتدار پر قبضے کے لیے نیٹ ورک تشکیل دینے کا الزام عاید کیا تھا۔

دبئی کے پولیس سربراہ ضاحی خلفان نے گذشتہ ماہ ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ یواے ای میں 26دسمبر کو گرفتار کیے گئے افراد کا القاعدہ سے تعلق تھا۔ان کے بہ قول اس گروپ نے یو اے ای ، سعودی عرب اورخطے کی دوسری ریاستوں میں بم حملوں کی منصوبہ بندی کی تھی اور وہ لوگوں کو قتل بھی کرنا چاہتے تھے۔

ضاحی خلفان کا کہنا تھا کہ صرف القاعدہ ہی یواے ای کے لیے سکیورٹی خطرہ نہیں ہے بلکہ اسے ایران اور اخوان المسلمون سے بھی خطرات لاحق ہیں۔انھوں نے کہا کہ ایران اور اخوان المسلمون نظریاتی طور پر دو مختلف نقطہ نظر کے حامل ہیں لیکن ان دونوں سے ایک جیسے خطرات لاحق ہیں۔

ان کے بہ قول اخوان المسلمون اور ایران دونوں ہی اپنے اپنے انقلابات کو برآمد کرنا چاہتے ہیں۔اخوان اس وقت خلیجی حکمرانوں کی شہرت کو داغ دار کرنا چاہتی ہے اور ان کے نام کو بٹا لگانی چاہتی ہے۔

واضح رہے کہ اخوان المسلمون نے مصر کے سابق صدر حسنی مبارک کی فروری 2011ء میں اقتدار سے رخصتی کے بعد ملک میں منعقد ہونے والے پارلیمانی اور صدارتی انتخابات میں واضح برتری حاصل کی تھی اور موجودہ صدر محمد مرسی ماضی میں اخوان کے لیڈر رہے ہیں۔ مصر میں بعد از انقلاب جمہوری طریقے سے اخوان المسلمون کی نمایاں کامیابی کے بعد سے خطے کے دوسرے ممالک کے مطلق العنان حکمران خود کو غیر محفوظ سمجھ رہے ہیں اور انھیں عوام کی جانب سے جلد یا بدیر اپنی حکومتوں کے خلاف تحاریک کا خطرہ لاحق ہے۔

دوسری جانب القاعدہ کی شاخ ''جزیرہ نما عرب میں القاعدہ'' کو یمن میں حالیہ مہینوں کے دوران ہزیمت کا سامنا رہا ہے لیکن اس کے باوجود خلیجی ممالک اس تنظیم کو اپنے لیے ایک خطرہ سمجھ رہے ہیں۔جزیرہ نما عرب میں القاعدہ نے 2010ء میں انتہائی خفیہ طریقے سے دوپارسل بم امریکا بھیجنے کی ذمے داری قبول کی تھی لیکن ان میں سے ایک بم کو برطانیہ اور دوسرے کو دبئی میں پھٹنے سے پہلے ہی سراغ لگا لیا گیا تھا اور انھیں ناکارہ بنا دیا گیا تھا۔