.

ابو قتادہ کی اردن حوالگی کے لیے کوششں جاری رہے گی: برطانیہ

محمد عثمان عرف ابو قتادہ 1993ء میں برطانیہ آیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی حکومت نے مذہبی رہنما ابو قتادہ کو اردن کے حوالے کرنے سے متعلق عدالتی جنگ ہارنے کے باوجود اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ اس انقلابی اسلامی مبلغ کو ملک بدر کرنے کی کوششیں جاری رکھے گی۔

برطانوی سیکرٹری داخلہ ٹریسا مےکی قانونی ٹیم ’اسپیشل امیگریشن اپیلیز کمیشن‘ کے اُس فیصلے کے خلاف دائر کردہ اپیل میں ہار گئی ہے، جس کے تحت ابو قتادہ کو برطانیہ سے بےدخل کرتے ہوئے اسے اردن نہیں بھیجوایا جا سکتا ہے۔ ابو قتادہ کو اردن میں 1998ء میں ہوئے دہشت گردانہ حملوں میں ملوث ہونے کے جرم میں اس کی عدم موجودگی میں ہی سزا سنائی جا چکی ہے۔

لندن حکومت کی کوشش ہے کہ اس 52 سالہ مذہبی مبلغ ابو قتادہ کو اردن کے سپرد کر دیا جائے تاکہ وہاں اس کے خلاف مقدمہ چلایا جا سکے لیکن اسپیشل امیگریشن اپیلیز کمیشن کے بہ قول ایسا خدشہ برقرار ہے کہ اگر ابو قتادہ کو اردن حکومت کے حوالے کیا جاتا ہے تو اس کے بنیادی انسانی حقوق کے پامال ہوسکتے ہیں۔ اسی بنیاد پر ابو قتادہ 2005ء سے عدالتی جنگ جاری رکھے ہوئے ہے اور ابھی تک اس میں کامیاب بھی ہے۔

اسپیشل امیگریشن اپیلیز کمیشن کے فیصلے کے مطابق ایسا خدشہ پایا جاتا ہے کہ تشدد اور ایذا رسانی کے ذریعے حاصل کیے گئے شواہد ابو قتادہ کے خلاف مقدمے کی نئے سرے سے سماعت کے دوران استعمال کیے جا سکتے ہیں، جو انصاف کے تقاضوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ بدھ کے دن اپیلز کورٹ نے کہا ہے کہ اسپیشل امیگریشن اپیلز کمیشن کے فیصلے میں کوئی قانونی غلطی نہیں ہے اور اس لیے اسے منسوخ نہیں کیا جا سکتا ہے۔

بدھ کے دن اپیلز کورٹ ججوں نے تسلیم کیا کہ وزرا یہ یقین رکھتے ہیں کہ ابو قتادہ ’غیر معمولی طور پر ایک خطرناک دہشت گرد‘ ہے لیکن یہ مبینہ حقیقت ان کے اس مخصوص فیصلے پر اثر انداز نہیں ہوئی ہے۔ تاہم برطانوی وزارت داخلہ نے اس عدالتی فیصلے کے بعد کہا ہے کہ حکومت ابو قتادہ کو ملک بدر کرنے کے لیے پر عزم ہے۔ وزارت داخلہ کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان کے مطابق، ’’ یہ اختتام نہیں ہے۔‘‘

درایں اثناء ابو قتادہ ابھی تک حراست میں ہے۔ اسے نومبر میں اسپیشل امیگریشن اپیلیز کمیشن کے فیصلے کے بعد ضمانت پر رہا کیا گیا تھا تاہم ضمانت کی شرائط کی خلاف ورزی کرنے پر اسے رواں ماہ دوبارہ حراست میں لے لیا گیا تھا۔

ابو قتادہ کا اصل نام عمر محمد عثمان ہے۔ وہ پہلی مرتبہ 1993ء میں برطانیہ پہنچا تھا اور اس نے سیاسی پناہ کی درخواست کی تھی۔ اسے اسامہ بن لادن کا قریبی ساتھی تصور کیا جاتا رہا ہے تاہم ابو قتادہ نے ایسی تمام قیاس آرائیوں کو مسترد کیا ہے کہ وہ اسامہ بن لادن سے کبھی ملا بھی تھا۔