.

تیونس: سلفی گروپ کی النہضہ حکومت کا تختہ الٹنے کی دھمکی

وزیراعظم علی العریض کے انصارالشریعہ سے متعلق سخت موقف کا ردعمل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس کے مفرور سلفی رہ نما سیف اللہ ابن حسین المعروف ابو عیاض کے حامیوں نے اعتدال پسند اسلامی جماعت النہضہ کی قیادت میں مخلوط حکومت کا تختہ الٹنے کی دھمکی دی ہے۔

ابو عیاض نے بہ ذات خود بھی بدھ کو ایک بیان میں دھمکی دی تھی کہ ''اگر وزیراعظم علی العریض کی حکومت ان کی سلفی اسلامی جماعت انصار الشریعہ کے معاملات میں مداخلت کرتی ہے تو اس کو تاریخ کی ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا جائے''۔

جمعرات کو اس سلفی گروپ نے سماجی روابط کی ویب سائٹ فیس بُک پر جاری کردہ بیان میں اپنے رہ نما کے بیان کی تائید کی ہے اور لکھا ہے کہ ''اگر النہضہ کے لیڈر ضبط وتحمل کا مظاہرہ کرتے ہیں تو ٹھیک ہے،دوسری صورت میں وہ ہماری جنگ کا ہدف ہوں گے اور ان کے اقتدار کا خاتمہ کردیا جائے گا''۔

تیونس کے وزیراعظم علی العریض نے اسی ماہ اقتدار سنبھالا ہے۔گذشتہ ماہ ان کی جماعت سے تعلق رکھنے والے سابق وزیراعظم حمادی جبالی حزب اختلاف کے ایک معروف سیاست دان کے قتل کے بعد مستعفی ہوگئے تھے۔

علی العریض سابق حکومت میں وزیرداخلہ کے عہدے پر فائز تھے۔انھوں نے نئی حکومت بنانے سے قبل متعدد مرتبہ ابو عیاض کی کارروائیوں کی مذمت کی تھی۔انھوں نے فرانسیسی اخبار لی موندے کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ انصار الشریعہ کے لیڈر تشدد اور اسلحہ کی اسمگلنگ میں براہ راست ملوث ہیں جس سے تیونس کی سکیورٹی کے لیے خطرات پیدا ہوگئے ہیں۔

ابو عیاض پولیس کو گذشتہ سال ستمبر میں امریکی سفارت خانے پر حملے کی شہ دینے کے الزام میں بھی مطلوب ہیں۔دارالحکومت تیونس میں امریکا میں بنی اسلام مخالف گستاخانہ فلم کے خلاف احتجاجی مظاہرے کے دوران چار افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

دسمبر میں الجزائر کی سرحد کے نزدیک واقع علاقے میں مسلح اسلامی جنگجوؤں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں ایک پولیس اہلکار ہلاک ہوگیا تھا۔اس واقعہ کے بعد علی العریض نے اپنے ردعمل میں سلفی انصار الشریعہ کو اسلامی مغرب میں القاعدہ سے وابستہ گروپ قرار دیا تھا۔