.

سعودی خواتین کو پبلک مقامات میں موٹر بائیک چلانے کی اجازت

مذہبی اتھارٹی کی مرد رشتے دار یا سرپرست ساتھ رکھنے کی شرط

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں حکومت نے خواتین کو کاریں چلانے کی تو ابھی تک اجازت نہیں دی لیکن مذہبی اتھارٹی نے حال ہی میں انھیں مشروط طور پر پبلک مقامات میں موٹر بائیک چلانے کی اجازت دے دی ہے۔

سعودی مملکت کے محکمہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر (مذہبی اتھارٹی) نے خواتین کو آزادانہ اور اپنے طور پر تنہا موٹرسائیکل چلانے کی اجازت نہیں دی بلکہ ان پر ایک شرط یہ عاید کی ہے کہ ان کا کوئی مرد رشتے دار یا سرپرست موٹر بائیک چلاتے ہوئے ان کے ساتھ ہوگا۔

سعودی رونامے الیوم میں سوموار کو شائع شدہ ایک رپورٹ میں محکمہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے ایک عہدے دار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ''خواتین کو پارکوں اور ساحل سمندر کے کنارے سمیت دوسری جگہوں پر موٹر بائیک چلانے کی اجازت ہوگی لیکن اس کی شرط یہ ہوگی کہ وہ مکمل شائستہ لباس پہنیں گی اور اس موقع پر گرنے یا حادثے کی صورت میں ان کو سنبھالنے کے لیے ان کا کوئی مرد سرپرست موجود ہو''۔

اس ذریعے کا کہنا تھا کہ موٹربائیک کو صرف تفریحی مقصد کے لیے چلایا جاسکے گا اور اس کو خواتین سفر کے مستقل ذریعے کے طور پر استعمال نہیں کرسکیں گی۔مذہبی اتھارٹی نے موٹر بائیکس چلانے والی خواتین کو ہدایت کی ہے کہ وہ نوجوانوں کی ریلیوں والے علاقوں یا احتجاج کرنے والے گروپوں سے دور رہیں۔محکمہ امر بالمعروف کا کہنا ہے کہ اس نے کبھی غیرملکی خواتین کو بگیوں یا بائیسکل چلانے سے نہیں روکا۔

سعودی عرب میں کار حادثات کا شکار ہونے والے افراد کی مدد کے لیے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم کی سربراہ سمعیہ الباوردی نے خواتین کو خبردار کیا ہے کہ وہ بائیسکل اور بگیاں چلانے سے گریز کریں۔انھوں نے سعودی روزنامے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عبایا یا مکمل حجاب پہن کر بائیسکل چلانے سے خوفناک حادثہ رونما ہوسکتا ہے۔

سعودی عرب میں خواتین کو موٹر سائیکل چلانے کی اجازت کی خبر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایک سعودی فلم ''وجدہ'' کو بین الاقوامی ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔اس فلم کی مصنفہ اور ڈائریکٹر حیفا المنصور ہیں۔اس فلم میں ریاض کے نواح میں رہنے والی ایک گیارہ سالہ بچی کی کہانی بیان کی گئی ہے جو بائیسکل چلانا چاہتی ہے لیکن اس کو اس کی اجازت نہیں ہے۔

واضح رہے کہ سعودی خواتین کو کاریں چلانے کی اجازت نہیں ہے اور 1990ء میں اس پر باضابطہ طور پر پابندی لگادی گئی تھی۔اس معاملے پر سعودی مملکت میں ایک عرصے سے بحث جاری ہے اور حال ہی میں اس کو جائزے کے لیے شوریٰ کونسل کو پیش کیا گیا تھا۔خواتین کو کار چلانے کا حق دلانے کے لیے مہم میں پیش پیش کارکنان کو امید ہے کہ شوریٰ کونسل سعودی خواتین کو بھی کاریں چلانے کی اجازت دے دے گی۔