.

عائشہ قذافی نے غصے میں الجزائری صدر کی قیام گاہ کو آگ لگادی

الجزائری صدر کی تصاویر پھاڑ دیں،فرنیچر کی توڑ پھوڑ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے مقتول صدر معمر قذافی کی الجزائر میں پناہ گزین بیٹی عائشہ قذافی نے جنوبی علاقے میں واقع ایک صدارتی قیام گاہ کو آگ لگادی ہے۔

عائشہ قذافی اپنی والدہ صفیہ اور دوبھائیوں کے ساتھ اگست 2011ء سے الجزائر کے جنوبی علاقے میں ایک صدارتی ہاؤس میں مقیم ہیں۔الجزائری روزنامے النہار نے اپنی سوموار کی اشاعت میں ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ سابق صدر کی بیٹی اکثر غصے میں ہوتی ہیں اور وہ اس حالت میں صدر ہاؤس میں رکھی چیزوں کو توڑتی رہتی ہیں۔

عائشہ قذافی پہلے تو صرف فرنیچر اور دوسری اشیاء وغیرہ ہی کی توڑپھوڑ کرتی رہی ہیں لیکن تین روز قبل انھوں نے شدید غصے میں گھر کو آگ لگادی جس سے اس کو کافی نقصان پہنچا ہے۔

اخبار کی رپورٹ میں ان کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ انھوں نے اس سے پہلے اس سرکاری قیام گاہ کی لائبریری کے شلفیں توڑ دی تھیں اور وہاں آویزاں صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کی تصاویر پھاڑ دی تھیں۔ایک واقعہ میں تو انھوں نے صدارتی محافظ پر بھی حملہ آور ہونے کی کوشش کی تھی۔اس کا قصور صرف یہ تھا کہ اس نے عائشہ کا غصہ ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی تھی۔

عائشہ قذافی اور ان کے بھائی لیبی حکومت کی درخواست پر بین الاقوامی پولیس ایجنسی انٹرپول کو بھی مطلوب ہیں اور ان کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کیے جاچکے ہیں۔یادرہے کہ کرنل قذافی کی اہلیہ صفیہ ،بیٹی عائشہ اور دو بیٹوں ہنیبل اور محمد نے اگست 2011ء میں طرابلس میں اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد الجزائر میں پناہ لے لی تھی۔ان کے ایک اور بیٹے سعدی اسی سال ستمبر میں بھاگ کر پڑوسی ملک نیجر چلے گئے تھے۔

گذشتہ ہفتے اومانی حکومت کے ایک عہدے دار نے بتایا تھا کہ ان کا ملک الجزائر میں پناہ گزین لیبیا کے سابق صدر کے خاندان کو پناہ دینے کے لیے تیار ہے لیکن اس کی یہ شرط ہوگی کہ وہ سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لیں گے۔تاہم طرابلس میں اومانی سفارت خانے نے قذافی خاندان کے الجزائر سے اومان پہنچنے کی اطلاعات کی تردید کی تھی۔

لیبیا کے سابق صدرکے تین بیٹے معتصم ،سیف العرب اور خمیس باغیوں کے ساتھ لڑائی اور ان کی کارروائیوں میں مارے گئے تھے۔ان کے سیاسی جانشین بیٹے سیف الاسلام کو باغی جنگجوؤں نے نومبر2011ء میں گرفتار کر لیا تھا اور اب ان کے خلاف لیبیا میں مقدمہ چلانے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔