.

کویت: پاکستانی سمیت تین افراد کو قتل کے جرائم میں پھانسی

2007ء کے بعد پہلی مرتبہ سزائے موت پرعمل درآمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کویت میں ایک پاکستانی سمیت تین افراد کو قتل کے مختلف جرائم میں سوموار کی صبح تختہ دار پر لٹکا دیا گیا ہے۔

کویت کی وزارت انصاف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایک پاکستانی، ایک سعودی اور ایک بے ریاست عرب باشندے کو دارالحکومت کے مغرب میں واقع سنٹرل جیل میں عدالتی اور سکیورٹی حکام کی موجودگی میں پھانسی دی گئی ہے۔

استغاثہ کے مطابق پاکستانی شہری کو ایک کویتی جوڑے کو قتل کرنے کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی اور سعودی کو اپنے ہی ہم وطن کو کویت میں قتل کرنے کے جرم میں قصوروار قرار دے کر پھانسی کا حکم دیا گیا تھا۔بے ریاست عرب باشندے کو اپنی بیوی اور پانچ بچوں کو قتل کرنے کے جرم میں پھانسی دی گئی ہے۔اس نے یہ دعویِٰ کیا تھا کہ وہ امام مہدی ہے اور اس کے بعد اس نے اپنے بیوی بچوں کو موت کی نیند سلا دیا تھا۔

کویت میں 2007ء کے بعد پہلی مرتبہ قتل کے مجرموں کو تختہ دار پر لٹکایا گیا ہے۔چھے سال پہلے کویتی حکام نے پھانسی کی سزاؤں پر عمل درآمد روک دیا تھا اور اس کی کوئی وضاحت بھی نہیں کی گئی تھی۔

ایک مقامی روزنامے کی رپورٹ کے مطابق اس وقت مزید چوالیس افراد پھانسی پانے کے منتظر ہیں۔انھیں کویت کی عدالتوں نے مختلف جرائم میں پھانسی کی سزائیں سنائی تھیں۔ان میں حکمراں خاندان الصباح کے دو ارکان بھی شامل ہیں۔انھیں منشیات کی اسمگلنگ اور قتل کے جرم میں سزائے موت کا حکم دیا گیا تھا۔ ان کے علاوہ 2009ء میں شادی کی تقریب کے لیے لگائے گئے خیمے کو آگ لگانے والی ایک عورت بھی پھانسی کی منتظر ہے۔ اس واقعے میں ستاون افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اس خلیجی ریاست میں 1960ء کے بعد سے اب تک انہتر مردوں اور تین غیر ملکی عورتوں کو مختلف جرائم میں پھانسی دی جاچکی ہے۔ان میں سے زیادہ تر کو منشیات کی اسمگلنگ اور قتل کے مقدمات میں سزائے موت سنا کر تختہ دار پر لٹکایا گیا تھا۔

کویت کی ایک فوجداری عدالت نے مارچ 2011ء میں کویتی آرمی میں خدمات انجام دینے والے دو ایرانیوں اور ایک کویتی کو ایران کے جاسوسی کے ایک نیٹ ورک سے تعلق کے الزام میں سزائے موت سنائی تھی۔استغاثہ نے ان پر الزام عاید کیا تھا کہ وہ ایران کے لیے جاسوسی کررہے تھے اورانھوں نے پاسداران انقلاب ایران کو کویت اور کویت میں موجود امریکی فوج سے متعلق معلومات فراہم کی تھیں۔ یہ تینوں افراد بھی پھانسی کے منتظر ہیں۔