.

اقوام متحدہ میں اسلحے کی تجارت سے متعلق معاہدے کی منظوری

ایران ،شام اور شمالی کوریا کی اسلحی تجارت کو باضابطہ بنانے کی مخالفت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے منگل کو روایتی ہتھیاروں کی تجارت سے متعلق معاہدے کی کثرت رائے سے منظوری دے دی ہے جس کے تحت اسی ارب ڈالرز کی سالانہ تجارت کو باضابطہ بنایا جائے گا۔

جنرل اسمبلی کے ایک سو ترانوے رکن ممالک میں سے ایک سو چوّن نے معاہدے سے متعلق قرارداد کے حق میں ووٹ دیا اور تین ممالک شام ،شمالی کوریا اور ایران نے اس کی مخالفت کی۔روس سمیت تئیس ممالک رائے شماری کے وقت اجلاس سے غیر حاضر رہے۔اب اس معاہدے پر جون کے بعد اقوام متحدہ کے رکن ممالک دستخط کریں گے۔

ایران کا کہنا تھا کہ معاہدے کے مسودے میں بہت سی خامیاں موجود ہیں اور اس نے مطالبہ کیا تھا کہ جارحیت کا ارتکاب کرنے والے ممالک کو بھی اسلحہ مہیا کرنے پر پابندی عاید کی جانی چاہیے۔شام نے سات اعتراضات وارد کیے تھے اور ان میں سے ایک میں کہا تھا کہ یہ معاہدہ دہشت گردوں اور غیر ریاستی اداکاروں کو اسلحہ کی روک تھام سے متعلق کچھ نہیں کہتا۔شمالی کوریا بھی شروع سے اس معاہدے کی مخالفت کرتا چلا آرہا تھا۔

ایران اور شمالی کوریا پر تو اقوام متحدہ کی پابندیاں عاید ہیں جبکہ شام میں گذشتہ دوسال سے خانہ جنگی جاری ہے اور وہ بعض ممالک پر باغی جنگجوؤں کو اسلحہ مہیا کرنے کے الزامات عاید کرتا چلا آرہا ہے جبکہ اس ملک کو اسلحہ مہیا کرنے پر عاید پابندی کے باوجود ایران اور روس وغیرہ درپردہ طور پر شامی حکومت کو اسلحہ مہیا کررہے ہیں۔

روایتی اسلحے کی تجارت کو باضابطہ بنانے سے متعلق معاہدے کے مسودے پر اقوام متحدہ کے رکن ممالک کے درمیان گذشتہ دس روز سے بات چیت جاری تھی۔اس دوران بھی ایران ،شام اور شمالی کوریا اس کی مخالفت کرتے رہے ہیں جبکہ افریقی ،لاطینی امریکی اور یورپی ممالک نے اس کی بھرپور حمایت کی تھی۔

مذکورہ تینوں ممالک نے گذشتہ جمعرات کو معاہدے کی اتفاق رائے سے منظوری کی مخالفت کی تھی اور اس کو بلاک کردیا تھا۔اس پر میکسیکو نے تجویز پیش کی تھی کہ اتفاق رائے کی کوئی تعریف نہیں ہے اس لیے اس معاہدے کو ایران ،شام اور شمالی کوریا کی حمایت کے بغیر ہی منظور کر لیا جائے لیکن روسی وفد نے اس تجویز کی مخالفت کی۔امریکا نے گذشتہ سال جولائی میں معاہدے کو اتفاق رائے سے منظور کرانے پر اصرار کیا تھا۔

جنرل اسمبلی میں معاہدے کی منظوری کے بعد اب عالمی ادارے کے تمام رکن ممالک اس پر دستخط کرنے اور اس کی توثیق کے لیے آزاد ہوں گے۔اگر پچاس ممالک نے اس کی توثیق کردی تو پھر یہ معاہدہ نافذالعمل ہوجائے گا لیکن اس میں بھی دوسال کا عرصہ لگ سکتا ہے۔

اقوام متحدہ میں 1996ء میں جوہری ہتھیاروں کے تجربے پر پابندی سے متعلق جامع معاہدے کے بعد اسلحے سے متعلق منظور ہونے والا یہ دوسرا بڑا معاہدہ ہے۔اس کے تحت ٹینکوں ،بکتر بند گاڑیوں ،توپخانے ،لڑاکا طیاروں ،ہیلی کاپٹروں ،جنگی بحری جہازوں ،میزائلوں اور میزائل لانچروں اور ہلکے ہتھیاروں کی تجارت کو باضابطہ بنایا جائے گا۔

معاہدے میں اقوام متحدہ کے رکن ممالک پر زوردیا گیا ہے کہ وہ اسلحہ کی برآمدات کے لیے اپنا کنٹرول سسٹم قائم کریں اور کسی بھی اسلحے اور ہتھیار کو فروخت کرنے سے پہلے اس بات کا بھی جائزہ لیں کہ ان کو نسل کشی ،جنگی جرائم یا منظم جرائم کے لیے تو استعمال نہیں کیا جائے گا۔

دنیا میں اسلحے کے سب سے بڑا برآمد کنندہ ملک امریکا نے اس معاہدے کی حمایت کی ہے لیکن امریکی کانگریس کی جانب سے اس کی توثیق یقینی نہیں ہے۔دنیا میں ہتھیاروں کے برآمد کنندہ ایک اور بڑے ملک روس اور سب سے بڑے خریدار ملک بھارت نے معاہدے کے مسودے پر متعدد اعتراضات کیے تھے۔

روس کا کہنا تھا کہ مسودے میں بہت سی غلطیاں ہیں اور اس میں اسلحے کے غیرریاستی اداکاروں کے ہاتھ لگنے کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا۔اس کو اسلحے کے چیچن باغیوں کے ہاتھ لگنے کے بارے میں تشویش ہے۔بھارت نے جنرل اسمبلی میں بحث کے دوران معاہدے کے مسودے پر کڑی تنقید کی ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ ایک عشرے سے مختلف ممالک کی حکومتیں اور اسلحہ کے پھیلاؤ کے خلاف کام کرنے والی تنظیمیں عالمی سطح پر اسلحے کی تجارت کو باضابطہ بنانے اور اس کے قواعد وضوابط وضع کرنے کے لیے مہم چلارہی تھیں۔