.

جامعہ الازہر میں زہرخورانی کے واقعے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی قائم

490 طلبہ متاثر،معدوں کے نمونوں میں زہریلا مواد پائے جانے کے آثار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری پراسیکیوٹر جنرل ایڈووکیٹ طلعت عبداللہ نے جامعہ الازہر کے طلبہ میں زہر خورانی کے واقعے کی تحقیقات کے لئے جنرل پراسیکیوشن برانچ کے افسروں پر مشتمل خصوصی کمیٹی تشکیل دی ہے۔

وزارت صحت اور ہاؤسنگ کا کہنا ہے کہ جامعہ الازہر سٹی میں زہر خورانی سے متاثرہ طلبہ کی تعداد 490 تک پہنچ گئی ہے۔وزارت میں ایمرجنسی شعبے کے سربراہ ڈاکٹر خالد الخطیب نے ایک بیان میں کہا ہے کہ الازہر کے تعلیمی کمپلیکس میں متعدد طلبہ زہر خورانی سے بیمار ہوئے ہیں۔ انہیں طبعیت کی خرابی کے لحاظ سے شہر کے مختلف ہسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے۔ ایک سو باون طلبہ کو الدمرداش پوائزن سینٹر میں داخل کرایا گیا ہے۔

الدمرداش کے پوائزن سینٹر کے ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ متاثرہ طلبہ کے معدوں سے حاصل کئے گئے سپیمپلز میں زہریلے مواد کے آثار ملے ہیں، تاہم زہر سے متاثرہ افراد کی عمومی حالت تسلی بخش ہے۔

ادھر جامعہ الازہر سٹی کے طلبہ نے نصر شہر میں کانفرنس ہال کے سامنے بطور احتجاج بند کیا گیا راستہ کھول دیا ہے۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ وہ کل صبح دوبارہ احتجاج کے لئے جمع ہوں گے۔ مصری اخبار 'الیوم السابع' کے مطابق طلبہ اتنی بڑی تعداد میں متاثر ہونے والے اپنے ساتھیوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے شیخ الجامعہ سے استعفی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔