.

عراق جنگ: بغداد کےحراستی مرکز میں قیدیوں پر بہیمانہ تشدد

امریکی اور برطانوی فوجی عراقیوں کو بجلی کے جھٹکے دیتے رہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں امریکی فوج اپنے قبضے کے دوران کیا گل کھلاتی رہی تھی اور اس نے عراقیوں پر کیا کیا مظالم ڈھائے تھے،اس کی ہوشربا تفصیل ماضی میں منظرعام پر آتی رہی ہے لیکن امریکی فوج کے مظالم کی داستان اتنی طویل ہے کہ اس کی مختصر مگر نئی نَئی کہانیاں وقفے وقفے سے سامنے آرہی ہیں۔یہ کہانیاں بیان کرنے والے کوئی اور نہیں خود امریکی اور برطانوی فوجی ہیں۔

اب کہ عراق کے دارالحکومت بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی عمارت میں واقع امریکا کے زیرانتظام حراستی مرکز میں عراقی قیدیوں کے ساتھ انسانیت سوز سلوک کی ہوشربا کہانی منظرعام پر آئی ہے۔برطانوی فوج کے ٹو آر اے ایف اسکوارڈرن اور آرمی ائیرکور اسکوارڈرن سے تعلق رکھنے والے فوجی جنگِ عراق کے دوران اس ''کیمپ نما'' نامی حراستی مرکز میں محافظ اور ٹرانسپورٹ کی ذمے داریاں انجام دیتے رہے تھے۔

برطانوی اخبار گارجین نے منگل کوان میں سے ایک فوجی کے بیان کے حوالے سے ایک رپورٹ شائع کی ہے اور اس نے کیمپ نما میں امریکی فوجیوں کے ہاتھوں انسانی حقوق کی سنگین پامالی کی تفصیل بیان کی ہے۔

اس برطانوی فوجی نے اخبار کو بتایا کہ اس نے ایک شخص کو دیکھا جس کو ٹانگ سے پکڑ کر کھینچا گیا اور پھر اس کو سر میں مارتے ہوئے لے جا کر ایک ٹرک میں بے دردی سے پھینک دیا گیا۔

اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکا اور برطانیہ کے ایک مشترکہ خصوصی فورسز یونٹ کو عراق کے سابق صدر صدام حسین کے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے بارے میں جانکاری رکھنے والے افراد کا سراغ لگانے اوران کی گرفتاری کی ذمے داری سونپی گئی تھی۔اس یونٹ کا کوڈ نام ٹاسک فورس 121 تھا۔

جب اس یونٹ کو وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے بارے میں کوئی معلومات نہ مل سکیں تو اس کو تب روپوش صدام حسین اور ان کے وفاداروں کا اتا پتا معلوم کرنے اور ان کے بارے میں معلومات رکھنے والے افراد کو پکڑنے کی ڈیوٹی دی گئی۔اس کے بعد اس یونٹ کو عراق میں القاعدہ کے جنگجوؤں کو پکڑنے کا بھی ٹاسک دیا گیا تھا۔

تفتیش کے ظالمانہ طریقے

برطانوی اخبار نے لکھا ہے کہ گذشتہ ماہ عراق جنگ کی دسویں برسی کے موقع پر مذکورہ ٹاسک فورس سے تعلق رکھنے والے متعدد سابق فوجیوں نے کیمپ نما میں عراقی قیدیوں پر بہیمانہ تشدد اور ان کے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے قصے بیان کیے ہیں۔

کیمپ نما میں عراقی قیدیوں سے تفتیش کے دوران ظالمانہ طریقے آزمائے جاتے تھے۔انھیں وہاں بجلی کے جھٹکے دیے جاتے،ان کے سر کوکپڑے سے ڈھانپ دیا جاتا اور اس حالت میں انھیں کئی کئی گھنٹے تک تنگ کوٹھڑیوں میں رکھا جاتا تھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ''عراقی قیدیوں پر تشدد کے اس قدر ظالمانہ حربے آزمائے جاتے تھے کہ اس پر پینٹاگان کو رپورٹ کرنے والا ایک خصوصی تفتیش کار بھی چیخ اٹھا تھا اور امریکا کے انسانی حقوق کے ایک ادارے نے بھی ان مظالم کی شدید مذمت کی تھی''۔

اس وقت سابق برطانوی وزیر دفاع جیف ہون کا بالاصرار کہنا تھا کہ انھوں نے اس خفیہ جیل کے بارے میں کبھی کچھ نہیں سنا تھا جبکہ برطانوی وزارت دفاع بھی کیمپ نما میں برطانوی فوج کی کارروائیوں کی منظوری سے متعلق سوالوں کے جواب دینے میں ناکام رہی تھی۔

فیصلے کا دفاع

مارچ میں سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلئیر نے عراق جنگ میں اپنے ملک اور حکومت کے کردار کا دفاع کیا تھا۔انھوں نے بی بی سی کے پروگرام نیوزنائٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''ذرا تصور کریں،اگر ہم نے صدام حسین کو اقتدار سے نہ ہٹایا ہوتا اور جس طرح یہ عرب انقلابات رونما ہورہے ہیں تو صدام حسین کیا کررہے ہوتے۔وہ شامی صدر بشارالاسد سے بیس گنا زیادہ برے ثابت ہوتے۔وہ عراق میں لوگوں کی بغاوت کو جبروتشدد کے ذریعے دبا رہے ہوتے۔ذرا سوچیں اگر اس رجیم کو برسر اقتدار ہی رہنے دیا جاتا تو اس کے کیا مضمرات ہوسکتے تھے''۔

ان کے ہم نوا سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش بھی اسی طرح مفروضوں پر مبنی بھاشن دیتے رہے ہیں۔انھوں نے اور ٹونی بلئیر نے دنیا کو عراق کے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا ڈراوا دے کر عراق پر جنگ مسلط کی تھی لیکن صدام حسین کی حکومت اور جنگ کے خاتمے اور کئی برس بعد غیرملکی فوجوں کے انخلاء کے بعد بھی عراق سے یہ ہتھیار نہیں ملے تھے۔

جنگ کے دوران امریکا اور برطانیہ کے جنگی طیاروں کی وحشیانہ بمباری سے عراق کے ہنستے بستے شہر تباہ و برباد ہوگئے تھے۔برطانیہ میں قائم ایک غیر سرکاری تنظیم ''عراق باڈی کاؤنٹ'' کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق اس جنگ میں ایک لاکھ باسٹھ ہزار عراقی کام آئے تھے اور ان میں اسی فی صد عام شہری تھے''۔

یہ ہلاکتیں دسمبر 2011ء میں عراق سے امریکی فوج کے مکمل انخلاء تک ہوئی تھیں لیکن اس جنگ کے دوران امریکی فوج نے جو ممنوعہ ہتھیار استعمال کیے تھے،ان کے نتیجے میں عراقیوں کی ہلاکتوں اور ان کے ہاں معذور بچوں کی پیدائش کا سلسلہ کئی عشرے تک جاری رہے گا۔