طالبان کا افغان عدالت پر تباہ کن حملہ، 44 افراد ہلاک

مزاحمت کاروں کی ساتھیوں کو چھڑوانے کے لیے خونریز کارروائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

افغانستان کے مغربی صوبہ فراہ میں طالبان مزاحمت کاروں کے خلاف مقدمے کی سماعت کے موقع پر افغان فوجیوں کی وردی میں ملبوس پانچ خودکش بمباروں نے عدالت پر حملہ کردیا ہے جس کے نتیجے میں چوالیس افراد ہلاک اور نوے سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔

ایران کی سرحد کے نزدیک واقع صوبہ فراہ کے نائب گورنر محمد یونس رسولی نے بتایا ہے کہ بدھ کی صبح آٹھ بجے کے قریب چھے طالبان جنگجوؤں نے صوبائی دارالحکومت میں عدالتی احاطے پر حملہ کیا تھا۔ان میں سے ایک حملہ آور نے پہلے خود کو دھماکے سے اڑا دیا اور ایک نے عدالت میں گھس کر فائرنگ شروع کردی جس کے بعد حملہ آوروں اور افغان سکیورٹی فورسز کے درمیان لڑائی شروع ہوگئی''۔

انھوں نے مزید بتایا کہ جنگجوؤں کے عدالت پر حملے کے وقت دس سے پندرہ طالبان کے خلاف مقدمے کی سماعت ہونے والی تھی اورانھیں جیل سے عدالت میں منتقل کیا جارہا تھا۔آج بدھ کو ان کے خلاف فرد جرم عاید کی جانا تھی۔خودکش بم دھماکے میں متعدد سرکاری عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔

کابل میں افغان وزارت داخلہ کے ترجمان نجیب دانش نے طالبان کے حملے میں چونتیس شہریوں ،چھے فوجیوں اور چار پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔واقعے میں اکانوے افراد زخمی ہوئے ہیں۔ان میں اکثریت شہریوں کی ہے جو طالبان کے حملے کے وقت عدالتی احاطے میں موجود تھے۔نائب ترجمان کے بہ قول واقعے میں نو حملہ آور بھی مارے گئے ہیں۔

طالبان نے میڈیا کو بھیجے گئے ایک ٹیکسٹ پیغام میں اس حملے کی فوری طور پر ذمے داری قبول کرلی ہے۔طالبان کے ترجمان قاری یوسف احمدی نے دعویٰ کیا کہ جن مزاحمت کاروں کے خلاف مقدمہ چلایا جارہا تھا ،انھیں اس حملے میں رہا کرا لیا گیا ہے۔

طالبان کی ویب سائٹ پر جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ''ہمارے جنگجوؤں نے فراہ میں متعدد سرکاری عمارتوں پر حملہ کیا تھا۔انھوں نے اپنے منصوبے کے مطابق چھوٹے ہتھیاروں اور دستی بموں سے کی کارروائی کی ہے''۔

لیکن صوبے کے پولیس سربراہ آغا نور کامتوز نے طالبان کے اس دعوے کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ خودکش حملہ آور طالبان قیدیوں کو چھڑانے میں ناکام رہے ہیں۔ان کے بیان کے کے مطابق فوجی وردیوں میں ملبوس چھے حملہ آور افغان نیشنل آرمی کی دو گاڑیوں میں سوار ہوکر فراہ شہر میں آئے تھے جس کی وجہ سے انھیں سکیورٹی چیک پوائنٹس پر کسی نے نہیں روکا۔

حملہ آوروں نے خودکش جیکٹس پہن رکھی تھیں۔ان میں سے دو نے اپنی گاڑی کو دھماکے سے اڑا دیا اور باقی چار نے عدالت اور پراسیکیوٹر کے دفتر پر حملہ کردیا۔اس دوران محافظوں نے ان پر فائرنگ شروع کردی جس سے ایک حملہ آور ہلاک اور باقی تین قریبی عمارتوں میں گھس گئے اور انھوں نے وہاں سے سکیورٹی فورسز اور اہلکاروں پر فائرنگ شروع کردی۔

فراہ کے پولیس سربراہ کا کہنا تھا کہ حملہ آور پندرہ طالبان قیدیوں کو رہا کرانا چاہتے تھے لیکن اللہ کا شکر ہے کہ وہ اس میں کامیاب نہیں ہوسکے۔صوبائی محکمہ صحت کے ڈائریکٹر عبدالجبار شائق نے بتایا ہے کہ حملے میں مارے گئے شہریوں میں ایک جج اور ان کا بیٹا بھی شامل ہے۔واضح رہے کہ گذشتہ کئی ماہ کے بعد افغانستان کی سرکاری عمارتوں سرکاری اہلکاروں پر طالبان کا یہ سب سے تباہ کن حملہ ہے۔

درایں اثناء افغانستان کے انٹیلی جنس چیف اسداللہ خالد مکمل طور پر صحت یاب ہونے کے بعد واپس کابل پہنچ گئے ہیں۔وہ چار ماہ قبل طالبان خودکش بمبار کے حملے میں شدید زخمی ہوگئے تھے۔وہ بیرون ملک زیر علاج رہے ہیں۔ان کی واپسی کے موقع پر شہر میں خیرمقدمی بینزر اور بل بورڈز لگائے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں