امدادی پیکج پر مذاکرات کی خاطر آئی ایم ایف ٹیم کی مصر آمد

مصر کو مالیاتی خسارے اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں شدید کمی کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

مصر کو درپیش مالیاتی بحران کے خاتمے کے لیے 4.8 بلین ڈالر کے امدادی پیکج کے حوالے سے بات چیت کرنے کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ [آئی ایم ایف] کا ایک پانچ رکنی وفد دارالحکومت قاہرہ پہنچ گیا ہے۔

مصر میں دو سال سے جاری سیاسی عدم استحکام کے نتیجے میں ملک کی مالی انتہائی حالت ابتر ہو چکی ہے۔ مصر کی سرکاری خبر رساں ادارے مڈل ایسٹ نیوز ایجنسی 'مینا' کے مطابق ملکی زر مبادلہ کے ذخائر تشویش ناک حد تک کم ہو چکے ہیں۔ اس سال تو شاید مصر کے پاس ملکی ضروریات پوری کرنے کے لیے گندم اور ایندھن خریدنے کے پیسے بھی نہ ہوں۔ یاد رہے کہ مصر اس وقت دنیا میں گندم کا سب سے بڑا درآمد کنندہ ہے۔

سیاسی عدم استحکام کے باعث پیدا ہونے والے مالیاتی بحران کے بعد مصر نے با ضابطہ طور پر آئی ایم ایف سے 4 ارب 80 کروڑ ڈالر کے قرض کی درخواست کی تھی۔ ذرائع کے مطابق مصر کی حکومت کو حسنی مبارک کے اقتدار کے خاتمے کے بعد سے مالی مشکلات کا سامنا ہے، جن کے باعث بالآخر مصر کو عالمی مالیاتی ادارے سے رجوع کرنا پڑا ہے۔ امدادی قرضے کے لیے یہ درخواست نومبر میں دی گئی تھی۔

آئی ایم ایف نے بعض وجوہات کی بناء پر مصر کی قرض کی درخواست پر عمل درآمد مؤخر کر دیا تھا۔ آئی ایم ایف کی جانب سے قرضے کے اجراء میں تاخیر کو صدر مرسی کی حکومت کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا گیا تھا۔ آئی ایم ایف کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا اجلاس 19دسمبر کو ہونا تھا اور اس میں مصر کے لیے قرضے کی منظوری دی جانا تھی۔

سیاسی عدم استحکام کے باعث مصر کی حکومت کو مالیاتی خسارے اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں شدید کمی کا سامنا ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق مصر کے آئی ایم ایف پروگرام میں جانے سے اس ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو سکتا ہے۔ ایک طویل انتظار کے بعد آئی ایم ایف ٹیم قاہرہ پہنچ چکی ہے۔ مصری حکومت کو اسے اب قائل کرنا ہو گا تاکہ امدادی پیکج کے حوالے سے منظوری حاصل کی جا سکے۔

آئی ایم ایف کی ایک ٹیم نے تین ماہ پہلے قاہرہ کا دورہ کیا تھا۔ اس کی مصری حکام سے بات چیت میں ابتدائی سمجھوتہ طے پا گیا تھا اور عالمی ادارے نے مصر سے قرضے کے حصول کے لیے بعض اقدامات اور ٹیکس اصلاحات کا مطالبہ کیا تھا۔

واضح رہے کہ آئی ایم ایف نے پہلے مصر کی معیشت کو سنبھالا دینے کے لیے تین ارب بیس کروڑ ڈالرز کا قرض دینے سے اتفاق کیا تھا لیکن بعد میں مصری حکومت کی درخواست پر اس رقم میں ایک ارب ساٹھ کروڑ ڈالرز کا اضافہ کر دیا تھا۔ اس پیکج پر مصری حکومت اور آئی ایم ایف کے نمائندوں کے درمیان گذشتہ دو تین ماہ سے مذاکرات ہو رہے تھے۔

صدر مرسی نے آئین پر ریفرنڈم سے قبل عوام پر اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں کوئی بھی نیا بوجھ لادنے سے انکار کر دیا تھا اور ان کی جانب سے نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے انکار پر کاروباری حلقے اور اقتصادی ماہرین بھی حیران رہ گئے تھے۔ ان لوگوں کا کہنا یہ تھا کہ آئی ایم ایف سے قرضے کا حصول ملکی معیشت کو سنبھالا دینے کے لیے ناگزیر ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں