ڈاکٹر الطیب نے جامعہ الازہر کے صدر کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا

فیصلہ 500 میں زہر خورانی کے واقعے کے دو روز بعد کیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر کے موقر تعلیمی ادارے جامعہ الازہر کے امام الاکبر ڈاکٹر احمد الطیب نے صدر جامعہ ڈاکٹر اسامہ العبد، یونیورسٹی سٹی کے سربراہ اور ڈائریکٹر فوڈز کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا ہے۔ یہ اقدام یونیورسٹی سٹی میں پانچ سو طلبہ کے زہر خورانی سے بیمار پڑنے کے واقعے کے دو روز بعد اٹھایا گیا ہے۔ اس فیصلے کا اعلان شیخ الازہر کے مشیر ڈاکٹر حسن الشافعی نے ایک نیوز کانفرنس میں پڑھ کر سنایا۔

بیان میں جامعہ الازہر کی غیر جانبداری پر زور دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ عالم اسلام کی قدیم مادر علمی کسی سیاسی جماعت کے ایجنڈے کو فالو نہیں کرے گی۔ شیخ الازہر نے اپنے بیان میں تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ سیاسی مخاصمتوں میں یونیورسٹی کے نام کو بدنام نہ کریں۔

مصر کے نجی ٹی وی "ڈریم" پر اظہار خِیال کرتے ہوئے سابق رکن پارلیمنٹ حمدی الفخرانی نے کہا کہ اس واقعے میں کسی جماعت کا ملوث ہونا خارج از امکان نہیں کیونکہ اس خدشے کو شیخ الازہر کے استعفی کا مطالبہ تقویت دیتا ہے کیونکہ انہوں نے لاء آف انسٹرومنٹس کے اجرا کی مخالفت کی تھی۔

انہوں نے الزام عاید کیا کہ اخوان المسلمون شیخ الازہر کو ان کے عہدے سے ہٹانا چاہتی ہے تاکہ وہ ملک میں من پسند قوانین منظور کر سکیں اور اپنا کنڑّول مضبوط کر سکیں۔ ان تمام قوانین کا براہ راست تعلق اسلامی شریعت ہے نفاذ سے ہے۔

ڈاکٹر حسن الشافعی نے نیوز کانفرنس کو بتایا کہ جامعہ الازہر کے طلبہ میں زہر خورانی کے واقعے کی وجہ سے ہنگامی انتظامی فیصلے کئے گئے ہیں۔ اس کا مقصد یونیورسٹی سٹی کے تمام ذ٘مہ داروں سے تفتیش کرنا ہے تاکہ ان میں ذ٘مہ دار افراد کو جنرل پراسیکیوشن کے سامنے پیش کیا جا سکے۔

ادھر جامعہ الازہر کی سپریم کونسل نے یونیورسٹی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ اعلی معیار کے کسی نئے ریستوران سے ساتھ طلبہ کو کھانا فراہم کرنے کا معاہدہ کریں۔ شیخ الازہر نے تمام شعبہ جات کے ڈینز کو ہدایت کی ہے کہ وہ طلبہ کی مشکلات جاننے کے لئے ان سے مذاکرات کریں تاکہ ان کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں