.

شمالی کوریا جنگ کی دھمکیوں سے باز رہے:امریکا کا انتباہ

شمالی کوریائی فوج کو امریکا پر جوہری حملے کی اجازت مل گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وائٹ ہاؤس نے شمالی کوریا کو خبردار کیا ہے کہ وہ جنگ کی دھمکیوں سے باز رہے جبکہ شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ اس نے امریکا پر جوہری حملے کی منظوری دے دی ہے۔

امریکا کی قومی سلامتی کونسل کی خاتون ترجمان کیٹلین ہیڈن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''شمالی کوریا کو اشتعال انگیز دھمکیوں سے باز آجانا چاہیے اور اس کے بجائے وہ اپنی بین الاقوامی ذمے داریوں کو پورا کرنے پر اپنی توجہ مرکوز کرے''۔

شمالی کوریا کی فوج نے بدھ کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ''دھماکے کا لمحہ تیزی سے قریب آرہا ہے''۔اس نے خبردار کیا کہ جنگ آج یا کل چھڑ سکتی ہے۔شمالی کوریا کے جنگ کے ان اعلانات کے بعد امریکا بحرالکاہل کے خطے میں اپنے میزائل دفاعی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے گوام کے جزیرے میں ٹھاڈ میزائل سسٹم نصب کرنے کی تیاری کررہا ہے اور اس نے خطے میں دو میزائل شکن جنگی بحری جہاز بھیجنے کا بھی اعلان کیا ہے۔

شمالی کوریا کی سرکاری خبررساں ایجنسی کے سی این اے نے بدھ کو کورین پیپلز آرمی کے جنرل اسٹاف کا بیان جاری کیا تھا جس میں انھوں نے امریکا خبردار کیا کہ اس کی دھمکیوں کو چھوٹے اور ہلکے جوہری ہتھیاروں کے ذریعے اڑا کر رکھ دیا جائے گا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ''ہماری مسلح افواج نے اس ضمن میں بے رحمانہ کارروائی کی تیاری کر لی ہے اور اس کی توثیق بھی کر لی گئی ہے''۔

شمالی کوریا نے گذشتہ ماہ بھی امریکا پر پیشگی جوہری حملے کی دھمکی دی تھی اور گذشتہ ہفتے اس کی سپریم آرمی کمان نے راکٹ یونٹوں کو حالت جنگ کی تیاریوں کا حکم دیا تھا لیکن شمالی کوریا کی جانب سے امریکا کو جنگ اور جوہری حملے کی ان دھمکیوں کے باوجود ماہرین کا خیال ہے کہ اس کے پاس ابھی تک بیلسٹک میزائل کے ساتھ لگائی جانے والی وہ ڈیوائس نہیں ہے جس کی مدد سے وہ امریکا کے فوجی اڈوں یا اس کے علاقے کو نشانہ بنا سکے۔

مگر اس کے باوجود امریکی وزیردفاع چَک ہیگل کا ایک تقریر میں کہنا ہے کہ ''پیانگ یانگ امریکا اور اس کے اتحادیوں جنوبی کوریا اور جاپان کے لیے ایک واضح خطرہ ہے۔ان کے پاس اب جوہری صلاحیت ہے اور وہ میزائل پھینکنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ہم ان کی دھمکیوں کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں''۔

ادھر شمالی کوریا کی جنوبی کوریا کے ساتھ واقع فصیل نما سرحد پر بھی کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے اور صدر کم جونگ ان کی حکومت نے جنوبی کوریا کے ورکروں کو اپنے سرحدی علاقے میں قائم مشترکہ صنعتی پارک میں داخل ہونے سے روک دیا ہے۔جنوبی کوریا کی مالی معاونت سے اس صنعتی پارک کو دونوں ممالک مشترکہ طور پر چلا رہے ہیں اور وہاں شمالی کوریا کے قریباً تریپن ہزار ورکر کام کرتے ہیں۔