.

قذافی کے کزن کو طرابلس کے حوالے نہ کیا جائے: مصری عدالت

قذاف الدم پر قاہرہ میں ہی مقدمہ چلایا جائے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی ایک عدالت نے ہدایت کی ہے کہ لیبیا کے سابق مقتول مرد آہن کرنل معمر قذافی کے کزن قذاف الدم کو طرابلس کے حوالے نہ کیا جائے بلکہ ان پر قاہرہ ہی مقدمہ چلایا جائے۔

عدالتی ذرائع کے مطابق مصر کی انتظامی عدالت نے قرار دیا ہے کہ گزشتہ ماہ گرفتار کئے جانے والے قذاف الدم سے مصر میں مبینہ جرائم کے بارے میں تحقیقات ہو رہی ہیں اس لئے اس کے خلاف مقدمے کی سماعت مصر ہی میں ہونی چاہئے۔

لیبی رہنما کرنل قذافی کے اقتدار خاتمے سے پہلےتک قذاف الدم ملک کے اہم رہنما سمجھے جاتے تھے۔ انہیں گزشتہ ماہ سابق لیبی سفیر علی ماریا اور قذافی دور کے دوسرے اہم رہنماوں کے ہمراہ قاہرہ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ اس وقت سے قذاف الدم مصری حکام کی نگرانی میں زیر حراست ہیں جبکہ دیگر دو عہدیداروں کو لیبیا کے حوالے کیا جا چکا ہے۔

لیبیا میں استغاثہ کے ترجمان طہ بارا نے فرانسیسی خبر رساں ادارے [اے ایف پی] کو بتایا کہ طرابلس نے دستاویزات میں ہیر پھیر کے الزام میں قذاف الدم کے بین الاقوامی وارنٹ گرفتاری جاری کئے ہیں جبکہ دیگر دونوں سابق عہدیدار مالی بدعنوانی کے الزامات میں مطلوب ہیں۔

لیبی وزیر اعظم علی زیدان نے گزشتہ ماہ طرابلس میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ قذاف الدم سابقہ لیبی حکومت کے قاہرہ میں گرفتار کئے جانے والے اہم کاپردازوں میں شامل تھا۔ ان پر کرنل قذافی کے خلاف منظم ہونے والے عوامی مزاحمت کے خلاف اقدامات کرنے کا الزام ہے۔

لیبیا کے وزیر اعظم الی زیدان نے تریپولی میں ایک نیوز کانفرنس میں بتایا ہے کہ قذف الدم پرانی حکومت کے متعدد عناصر میں سے ایک ہے اور وہ قذافی حکومت کے خلاف اٹھنے والی بغاوت کے خلاف مخالفانہ کاروائیوں پر مطلوب ہے۔