.

امریکی صدر مشرق وسطیٰ کے لیڈروں سے شامی بحران پر بات چیت کریں گے

یواے ای کے ولی عہد اور قطری امیر اسی ماہ واشنگٹن جائیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر براک اوباما آیندہ ہفتوں کے دوران اردن ،ترکی ،قطر اور متحدہ عرب امارات کے لیڈروں سے شامی بحران کے بارے میں بات چیت کریں گے۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے جمعہ کو جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ اردن کے شاہ عبداللہ دوم 26اپریل کو صدر براک اوباما سے ملاقات کریں گے اور وہ اردن میں سیاسی اور اقتصادی اصلاحات ،شام میں انسانی بحران اور باہمی دلچسپی کے دیگرعلاقائی امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔

ان کے بعد ترک وزیراعظم رجب طیب ایردوآن 16 مئی کو واشنگٹن میں صدر اوباما کے مہمان بنیں گے اور وہ ان سے شام ،دوطرفہ تجارتی اوراقتصادی تعاون اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے تبادلہ خیال کریں گے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ''امریکا اور ترکی دودوست اور نیٹو اتحادی ہونے کے ناتے اہم علاقائی اور عالمی مسائل کو حل کرنے کے حوالے سے شراکت دار ہیں''۔

امریکی صدر نے گذشتہ ماہ انقرہ کے دورے کے موقع پر اسرائیل اور ترکی کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا تھا اور انھی کے کہنے پر صہیونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے رجب طیب ایردوان سے ٹیلی فون پر گفتگو کی اور ان سے اسرائیلی کمانڈوز کے ترکی کے امدادی بحری جہاز پر خونریز حملے پر معافی مانگی تھی۔

اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی کے بعد ترک وزیراعظم کی صدر اوباما کے ساتھ یہ پہلی ملاقات ہو گی۔اردن اور ترکی کے لیڈروں سے قبل متحدہ عرب امارات کے ولی عہد شیخ محمد بن زاید الناہیان 16 اپریل کو واشنگٹن پہنچ رہے ہیں جبکہ قطر کے امیر شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی 23اپریل کو امریکی صدر سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کریں گے۔

اس دوران امریکی وزیرخارجہ جان کیری آیندہ ہفتے مشرق وسطیٰ کا دورہ کریں گے۔گذشتہ ایک ماہ کے دوران ان کا علاقے کا یہ تیسرا دورہ ہوگا۔وہ اسرائیلی اور فلسطینی قیادت سے امن مذاکرات کی بحالی کے ضمن میں بات چیت کریں گے۔