.

ایئرفرانس کو فلسطین نواز کارکن 'آف لوڈ' کرنے پر جرمانہ

فرانس کی قومی فضائی کمپنی متاثرہ خاتون کو زرتلافی بھی ادا کرنے کی پابند

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس کی ایک عدالت نے فضائی کمپنی ایئر فرانس کو 12,800 ڈالر جرمانے کی سزا سنائی ہے۔ کمپنی پر الزام تھا کہ اس نے تل ابیب کے لئے اپنی پرواز سے ایک فلسطین نواز رضاکار خاتون کو یہودی نہ ہونے کی بنا پر آف لوڈ کر دیا تھا۔

عدالتی فیصلے کے مطالبق فرانس کی قومی فضائی کمپنی متاثرہ خاتون مسافر کو تین ہزار یورو زر تلافی اور مقدمے پر اٹھنے والے اخراجات ادا کرنے کی بھی پابند ہے۔

تفصیلات کے مطابق نرسنگ کی طالبہ گزشتہ برس 'فلسطین خوش آمدید' مہم میں شرکت کی غرض سے فرانس سے اسرائیل جانا چاہتی تھیں۔ اس مہم میں شرکت کے خواہشمند سیکڑوں رضاکاروں نے مقبوضہ فلسطین آنے کی کوشش تھی۔

یورپ کی متعدد بڑی فضائی کمپنیوں نے اسرائیلی دباؤ کے تحت تقریبا تین سو مسافروں کی نشتیں منسوخ کر دیں تھیں جس پر انہیں مسافروں کے غیظ و غضب کا نشانہ بننا پڑا تھا۔

تیس سالہ انکور کو فرانس کے جنوب مشرقی شہر نیس میں ایئر فرانس کے ایک ملازم نے ان سے اسرائیلی پاسپورٹ اور ان کی مذہبی شناخت کے بارے میں سوال کئے جن کا جواب نفی میں ملنے پر انہیں حفاظتی حصار میں جہاز سے اتار لیا گیا تھا۔

فرانسیسی استغاثہ کی انکور کی ایئر فرانس کے خلاف قانونی چارہ جوئی میں یہ کہتے ہوئے ان کا ساتھ دیا کہ خاتون مسافر سے کیا جانے والے سلوک امیتازی تھا۔

فضائی کمپنی کے مطابق انکور کا نام اسرائیل کی جانب سے فراہم کردہ ناپسندیدہ افراد کی فہرست میں شامل تھا اور یہ بات یقینی تھی کہ انہیں اسرائیل داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔