.

عالمی برادری یورنیم افزودگی کا ایرانی حق تسلیم کرے: سعید جلیلی

قزاقستان میں تہران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قزاقستان میں ایران کے جوہری پروگرام پر عالمی طاقتوں کے ساتھ ہونے والی بات چيت کے موقع پر ایران نے اپنے متنازع جوہری پروگرام کا دفاع کیا ہے۔ ایران کی طرف سے اہم مذکرات کار سعید جلیلی نے کہا ہے کہ عالمی برادری کو یورینیم کی افزودگی کے ایرانی حق کو تسلیم کرنا چاہیے۔ الماتے میں ہونے والی بات چیت میں برطانیہ، فرانس، روس، امریکا، چین اور جرمنی جیسی عالمی طاقتیں شامل ہیں۔

اس موقع پر الماتے میں ایرانی وفد کے سعید جلیلی نے کہا ’ہمارے خيال سے بات چیت ایک لفظ سے آگے بڑھ سکتی ہے اور وہ یہ ہے کہ ایران کے حق کو تسلیم کیا جائے، خاص طور پر افزودگی کا حق۔ ہم پرامن جوہری توانائي کی بات کر رہے ہیں۔‘ انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا دنیا کے چند ملک ’دوسروں کو اس حق سے محروم رکھنا چاہتے ہیں۔‘

جمعرات کو میڈرڈ میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون نے بات چيت سے بامعنی پیش رفت کی امید ظاہر کی تھی ۔ انہوں نے ایران پر اس بات کے لیے زور دیا تھا کہ وہ یہ ثابت کرے کہ اس کا پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

اس سے قبل فروری میں الماتے میں ہی ہوئي بات چيت میں عالمی طاقتوں نے ایران پر یورینیم کی افزودگي روکنے پر زور دیا تھا۔ عالمی برادری نے ایران سے ایک افزودگی کے ایک زیرِ زمین مرکز کو بند کرنے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔

اس کے بدلے میں ایران پر عائد سخت اقتصادی پابندیوں میں نرمی کی پیش کش کی گئی تھی لیکن فریقن کے درمیان اختلافات برقرار رہے اور وہ کسی سمجھوتے پر نہیں پہنچ سکے۔

امریکا اور مغربی ممالک کا کہنا ہے کہ ایران جوہری پروگرام کی آڑ میں جوہری ہتھیاروں کے حصول کے لیے کوشاں ہے جبکہ ایران اس الزام سے انکار کرتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔