.

تیونس کے سابق صدر بن علی کے برادرنسبتی کا جیل میں انتقال

برین ٹیومر کا شکار منصف طرابلسی فراڈ کیس میں قید کاٹ رہے تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس کے سابق صدر زین العابدین بن علی کے برادر نسبتی منصف طرابلسی قید کے دوران انتقال کر گئے ہیں۔وہ دماغی کینسر (برین ٹیومر) کے مہلک مرض میں مبتلا تھے۔

منصف طرابلسی فراڈ کے مقدمے میں جیل کاٹ رہے تھے۔تیونس میں محکمہ جیل خانہ جات کے سربراہ حبیب سبوئی نے بتایا ہے کہ انھیں اٹھارہ مارچ کو جیل سے علاج کے لیے نیورالوجیکل اسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں ان کے دماغ سے رسولی نکالنے کے لیے آپریشن کیا گیا تھا لیکن وہ صحت یاب نہیں ہوسکے اور آج جمعہ کو انتقال کر گئے ہیں۔

حبیب سبوئی نے مزید بتایا کہ ''طرابلسی کی عمر انہتر برس تھی اور وہ گذشتہ چار پانچ روز سے بے ہوش تھے''۔انھیں جنوری 2011ء میں ان کے بہنوئی زین العابدین بن علی کی حکومت کے خاتمے کے فوری بعد گرفتار کر لیا گیا تھا اور انھیں فراڈ کے ایک مقدمے میں قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

منصف طرابلسی اپنے قبیلے کے دوسرے افراد کی طرح سابق صدر کے دور حکومت میں کوئی زیادہ اثرورسوخ نہیں رکھتے تھے۔ان کے ایک اور بھائی بلہاسن تیونس سے کینیڈا فرار ہوگئے تھے لیکن کینیڈا کے امیگریشن حکام نے ان کی وہاں قیام کے لیے اپیل مسترد کردی تھی۔

ان کی بہن اور سابق صدر کی اہلیہ لیلیٰ طرابلسی پر سرکاری خزانے سے رقم خرد برد کرنے اور نوادارت لوٹنے کے الزامات عاید کیے گئے تھے۔زین العابدین بن علی اور ان کی اہلیہ 14جنوری 2011ء کو ملک گیر عوامی مظاہروں کے بعد سعودی عرب بھاگ گئے تھے اور اب وہاں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

تیونس کے سابق حکمراں جوڑے کے خلاف بین الاقوامی پولیس ایجنسی انٹرپول نے تیونس کی درخواست پر وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے لیکن سعودی عرب نے تیونس کی درخواست پر بن علی کوملک بدر نہیں کیا تھا۔

گذشتہ سال تیونس کی ایک عدالت نے سابق صدر اور ان کی اہلیہ کو ناجائز ذرائع سے اثاثے بنانے اور بدعنوانیوں کے الزامات کے تحت قائم کیے گئے مختلف مقدمات میں چھیاسٹھ سال قید سنائی تھی۔تیونس کی ایک اور عدالت نے مئی 2011ء میں بن علی کو ان کی عدم موجودگی میں اپنے دور اقتدار میں منشیات اور ناجائز اسلحہ رکھنے کے مقدمے میں پندرہ سال قید کی سزا سنائی تھی۔

ان کے دورصدارت کے آخری دنوں میں صدارتی محل میں ان کے قبضے سے تارِیخی نوادرات برآمد ہوئے تھے۔عدالت نے انھیں ان دونوں مقدمات میں ساڑھے پندرہ سال قید اور اٹھہتر ہزار پانچ سو ڈالرز جرمانے کی سزا سنائی تھی۔سابق صدر اور ان کی اہلیہ کو غیر قانونی طور پر رقوم اور زیورات رکھنے کے جرم میں ایک اور مقدمے میں پینتیس سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔بن علی کے خلاف ایک فوجی عدالت میں ریاست کے خلاف سازش اور مظاہرین کے قتل عام کے الزامات میں الگ سے مقدمہ چلایا گیا تھا۔

بن علی ، ان کے خاندان اور سسرالی قبیلے کے بارے میں یہ کہا جاتا رہا ہے کہ انھوں نے دوعشرے سے زیادہ عرصے پر محیط حکومت کے دوران اپنے اثاثوں میں گراں بہا اضافہ کیا تھا۔انھوں نے ہوٹلوں ، بنکوں ،تعمیرات ،اخبارات، ادویہ سازی اور بہت سے دیگر شعبوں اور اداروں کے حصص خرید کرلیے تھے لیکن سابق صدر کے وکلاء نے ان کے خلاف عاید کردہ الزامات کی صحت سے انکار کیا تھا۔