مصری فوج کو 'مطیع' بنانے کی اخوانی کوشش طشت ازبام

ایران سے دوستی مصر کو 'برائی کے محور' میں شامل کرا دے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

مصری فوج کے اندرونی حلقوں کی جانب سے 'لیک' کی جانے والی معلومات کے مطابق اخوان المسلمون مصری فوج پر کنٹرول حاصل کرنے کے لئے کوشاں ہے۔ بہ قول مصری میڈیا اس مقصد کے لئے امریکا سمیت دیگر مغربی ملکوں کی 'آشیرباد' سے اخوان المسلمون نے وزیر دفاع عبدالفتاح السیسی کو ان کے منصب سے ہٹانے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ فوجی ذرائع نے اس اخوانی منصوبے کو 'ریڈ لائن' سے تعبیر کیا ہے۔

گزشتہ مہینوں میں فوج اور اخوان المسلمون کے درمیان بالواسطہ پیغام رسانی کے جلو میں مصری فوج اور حکمران جماعت کے درمیان کشیدگی انتہا کو پہنچ چکی ہے۔ اس ضمن میں وزیر دفاع کا مصری عوام کی جانب جھکاؤ اور تشدد کو مسترد کرتے ہوئے سیاسی مذاکرات کی پیشکش سے متعلق بیان خطرے کی گھنٹی ثابت ہوا۔

مصری فوجی ذرائع نے اخوان المسلمون پر الزام عاید کیا ہے کہ تنظیم فوج کے خلاف انٹرنیٹ پر مہم منظم کرنے میں مصروف ہے۔ ذرائع ابلاغ کے بہ قول نامعلوم اعلی حلقوں نے رفح کراسنگ پر سولہ مصری فوجیوں کی ہلاکت کے معاملے کو داخل دفتر کرنے کا حکم دیا ہے۔ انہی ذرائع کا کہنا ہے کہ فوج موجودہ وزیر دفاع السیسی کو فیلڈ مارشل حسین طنطاوی اور لیفٹیننٹ جنرل سامی عنان کی طرح گھر بھیجنے کے فیصلے کو ٹھندے پیٹوں برداشت نہیں کرے گی۔ مؤخر الذکر اعلی فوجی حکام کو صدر مرسی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد ان کے عہدوں سے بیک جنبش قلم ہٹا دیا گیا تھا۔

انہی ذرائع کے بہ قول مصر میں بڑھتے ہوئے ایرانی نفوذ کے باعث قاہرہ 'برائی کے محور' میں شامل ہو سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیر دفاع عبدالفتاح السیسی پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ صدر محمد مرسی کے دورہ پاکستان اور بھارت میں ان کے وفد میں شامل ہوں تاکہ اس تاثر کو راسخ کیا جا سکے کہ السیسی، سیاسی قیادت کے قریب ہیں۔

اس بات نے فوج کو اپنا شدید علانیہ ردعمل ظاہر کرنے پر مجبور کیا، جو مصر میں کسی بڑی پیش رفت کا پتہ دے رہے ہیں کیونکہ اپوزیشن اس صورتحال کو اپنے حق میں استعمال کرنے کی کوشش کر سکتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں