افغانستان میں خاتون سفارتکار سمیت چھے امریکی ہلاک

امسال 22 امریکی فوجی افغانسان میں مارے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

افغانستان کے صوبہ زابل میں ایک بم دھماکے کے نتیجے میں پانچ امریکی ہلاک ہو گئے ہیں جن میں تین فوجی اور دو سویلین اہلکار شامل ہیں۔ ہفتے کے روز ہونے والی ہلاکتوں کی ذمہ داری افغان طالبان نے قبول کر لی ہے۔ یہ ہلاکتیں ایسے وقت ہوئی ہیں جب اعلیٰ امریکی جنرل ڈیمپسی مشاورت کے لیے افغانستان پہنچے ہوئے ہیں۔

طالبان کے دو حملوں میں بڑی کارروائی جنوبی صوبے زابل کے صدر مقام قلات میں کی گئی۔ قلات میں خودکش حملے میں پانچ امریکیوں کی ہلاکت کی تصدیق کر دی گئی ہے۔ ان میں تین فوجی اور دو سویلین امریکی شامل ہیں۔ زابل میں ہلاک ہونے والے امریکیوں میں ایک نوجوان خاتون سفارتکار بھی شامل ہے۔

ان پانچ امریکیوں کے علاوہ ایک افغان ڈاکٹر بھی قلات شہر کے خود کش حملے میں مارا گیا۔ امریکی قافلہ زابل صوبے کے مرکزی شہر کے ایک اسکول کو کتابوں کا تحفہ دینے جا رہا تھا۔ حملہ ایسے وقت کیا گیا جب امریکی فوج کی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے سربراہ جنرل مارٹن ڈیمپسی مشاورت کے لیے کابل پہنچے ہوئے ہیں۔ ہفتے ہی کے روز ایک اور امریکی فوجی مشرقی افغانستان میں ہلاک ہوا۔

افغانستان کے صوبے زابل کے صدر مقام قلات میں ہونے والے حملے کے حوالے سے صوبائی پولیس کے سربراہ جنرل غلام سخی روغلاوانے کا کہنا ہے کہ گورنر اور امریکیوں کے قافلوں کے درمیان پہنچ کر ایک خودکش بمبار نے اپنی بارودی بیلٹ کو اڑا دیا۔ صوبے زابل کے گورنر محمد اشرف ناصری کا کہنا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ اس خودکش حملے کا ٹارگٹ وہ تھے۔ نیوز ایجنسی اے پی کو ٹیلی فون پر گورنر نے اپنے صحیح سلامت اور زندہ بچ جانے کا بتایا۔ ناصری کے مطابق اس خودکش حملے میں ایک ڈاکٹر کے ہلاک ہونے کے علاوہ ان کے دو محافظ زخمی بھی ہوئے ہیں۔

افغانستان میں سرگرم عسکریت پسند گروپ طالبان کے ترجمان قاری یوسف احمدی نے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے کسی نامعلوم مقام سے ٹیلی فون کرتے ہوئے قاری یوسف احمدی نے 'اے پی' بتایا کہ خودکش بمبار کا نشانہ اتحادی فوج کا قافلہ یا زابل صوبے کا گورنر تھا۔ احمدی کا مزید کہنا تھا کہ ان دونوں میں سے کسی ایک کا انتظار کیا جا رہا تھا۔ ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ دونوں اہداف ایک ساتھ سامنے آنے پر ان کے ساتھیوں میں مسرت کی لہر دوڑ گئی تھی۔ ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ خودکش بمبار ایک موٹر کار میں سوار تھا۔ زابل صوبے کے گورنر محمد اشرف ناصری اس حملے میں بال بال بچ گئے۔

زابل صوبے میں ہونے والی ہلاکتوں سے رواں برس کے دوران ہلاک ہونے والے غیر ملکی فوجیوں کی تعداد 30 ہو گئی ہے اور ان میں 22 امریکی فوجی شامل ہیں۔ گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران یہ امریکی فوجیوں کے لیے انتہائی خوفناک حملہ قرار دیا گیا ہے۔ اسی سال کے دوران طالبان حملوں میں چھ غیر ملکی سویلین باشندوں کی ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے ہفتے کے روز ہونے والی ان ہلاکتوں پر شدید رنج اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ کیری کے مطابق زابل صوبے میں امریکی وزارت خارجہ کے چار دیگر اہلکار بھی زخمی ہیں اور ان میں سے ایک کی حالت خاصی نازک ہے۔ ہلاک ہونے والی خاتون سفارت کار سے جان کیری نے اپنے افعانستان کے دورے کے دوران ملاقات بھی کی تھی۔ جان کیری نے تمام ہلاک شدگان کے خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے مرحومین کو خراج تحسین بھی پیش کیا۔

ہفتے کے روز ہونے والے حملے اور ہلاکتوں کے بعد امریکی وزیر خارجہ نے یہ بھی بتایا کہ وہ وزیر دفاع چَک ہیگل، امریکی صدر کی رہائش گاہ وائٹ ہاؤس اور وزارت خارجہ کے اعلیٰ اہلکاروں کے ساتھ قریبی رابطہ رکھے ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں