سعودی فرمانروا کی ہدایت پر غیر قانونی کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن مؤخر

حکام روزگار کی منڈی میں 'بلیک مارکیٹ' کا خاتمہ چاہتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی عرب کے فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے وزارت داخلہ اور وزارت محنت کو ہدایت کی ہے کہ فی الحال ان تمام غیر ملکی کارکنوں کے خلاف کارروائی روک دی جائے جو ملک میں قیام اور روزگار سے متعلق ضابطوں کے خلاف ورزیوں کے مرتکب ہوئے ہیں۔ العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اس التواء کا مقصد غیر قانونی طور پر کام کرنے والےغیر ملکی کارکنوں کو موقع فراہم کرنا ہے کہ وہ اپنے قیام اور روزگار کے قانونی کاغذات حاصل کرنے کی کوشش کر سکیں۔

یہ تارکین وطن ہر سال اپنے اپنے ملکوں میں مجموعی طور پر اربوں کی وہ رقوم بھجواتے ہیں جو ان کے آبائی ملکوں کی معیشت میں بہت اہمیت کی حامل ہیں۔ خلیج کی اس عرب ریاست میں کام کرنے والے 90 لاکھ سے زائد کارکنوں کا تعلق دنیا کے بیسیوں مختلف ملکوں سے ہے لیکن ان میں اکثریت یمن، بھارت، پاکستان اور فلپائن کے شہریوں کی ہے۔

سعودی عرب سے پچھلے چند ماہ کے دوران دو لاکھ سے زائد غیر ملکیوں کو ملک بدر کیا جا چکا ہے۔ یہ تعداد پاسپورٹ کے ملکی محکمے کے ایک اعلیٰ اہلکار کے بیان میں بتائی گئی ہے جو اسی ہفتے روزنامہ ’الحیات‘ میں شائع ہوا تھا۔

سعودی عرب میں یہ کریک ڈاؤن روزگار کی ملکی منڈی میں اصلاحات کے اس عمل کا حصہ ہے جس کا مقصد نجی شعبے میں پہلے سے موجود یا نئی پیدا ہونے والی آسامیوں پر زیادہ سے زیادہ سعودی کارکنوں کی بھرتی کے لیے آسانیاں پیدا کرنا ہے۔ اس وقت سعودی عرب میں پرائیویٹ سیکٹر میں کام کرنے والے کارکنوں میں مقامی باشندوں کا تناسب صرف 10 فیصد ہے جبکہ ہر دس میں سے نو ملازمتوں پر کوئی نہ کوئی غیر ملکی شہری کام کرتا ہے۔

اس کے علاوہ سال 2011ء کے لیے سعودی مرکزی بینک کے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار سے بھی یہ پتہ چلا تھا کہ اس ملک میں کام کرنے والے ہر دس مقامی باشندوں میں سے نو پبلک سیکٹر میں کام کرتے ہیں۔

سعودی عرب مشرق وسطیٰ کے خطے کی سب سے بڑی معیشت ہے جس میں ترقی کی شرح گزشتہ برس 6.8 فیصد رہی تھی۔ لیکن سعودی حکومت مقامی باشندوں میں ملازمت پیشہ افراد کی کم تر شرح کو اپنے لیے طویل المدتی بنیادوں پر ایک بڑا اسٹریٹیجک چیلنج تصور کرتی ہے۔

سعودی قانون کے تحت غیر ملکی کارکنوں کے لیے کفیل کہلانے والے آجر افراد یا اداروں کی طرف سے اسپانسر کیا جانا لازمی ہے لیکن بہت سے غیر ملکی اپنی رہائش تبدیل کیے بغیر اپنی ملازمتیں تبدیل کر لیتے ہیں یا اپنے کفیلوں کو ہر ماہ کچھ رقم ادا کر کے غیر قانونی طور پر ایسی ملازمتیں بھی کرتے ہیں جن کا حکام کو کوئی علم نہیں ہوتا۔

اس طرح ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوئی غیر ملکی کام تو کسی اور جگہ کر رہا ہوتا ہے لیکن اس کا رہائشی اجازت نامہ کسی ایسے سعودی شہری کے نام پر جاری کیا گیا ہوتا ہے، جس کا اس غیر ملکی کارکن سے عملی تعلق یا تو ہوتا ہی نہیں یا ختم ہو چکا ہوتا ہے۔

یوں سعودی عرب میں طویل عرصے سے روزگار کی منڈی میں ایک ایسی بلیک مارکیٹ وجود میں آ چکی ہے جسے اب ریاض حکومت ختم کرنے کا تہیہ کیے ہوئے ہے اور دوسرے ملکوں کے غیر قانونی کارکنوں کی دستاویزات کی چھان بین اور ان کے خلاف کریک ڈاؤن اسی حکومتی پالیسی کا حصہ ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں